صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 558 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 558

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۵۸ ۷۸ - كتاب الأدب ایک دفعہ میں حضرت مسیح موعود کی ملاقات کے لئے قادیان آیا۔سردی کا موسم تھا اور کچھ بارش بھی ہو رہی تھی۔میں شام کے وقت قادیان پہنچا تھا۔رات کو جب میں کھانا کھا کر لیٹ گیا تو کافی رات گزر گئی اور تقریباً بارہ بجے کا وقت ہو گیا کسی نے میرے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔میں نے اُٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے تھے ، ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا گلاس تھا اور دوسرے ہاتھ میں لالٹین تھی۔میں حضور کو دیکھ کر گھبرا گیا مگر حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا: کہیں سے دودھ آ گیا تھا، میں نے کہا کہ آپ کو دے آؤں آپ یہ دودھ پی لیں، آپ کو شاید دودھ کی عادت ہوگی اس لئے دودھ آپ کے لئے لے آیا ہوں۔سیٹھی صاحب کہا کرتے تھے کہ میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔سبحان اللہ ! کیا اخلاق ہیں۔خدا کا برگزیدہ صیح اپنے ادنی خادموں تک کی خدمت اور دلداری میں کتنی لذت پارہا ہے اور تکلیف اُٹھا رہا ہے۔“ (خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۲۳، جولائی ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۵۱۹) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر سید حبیب اللہ صاحب (جو بطور مہمان آئے ہوئے تھے ) کو مخاطب کر کے فرمایا: ”آج میری طبیعت علیل تھی اور میں باہر آنے کے قابل نہ تھا مگر آپ کی اطلاع ہونے پر میں نے سوچا کہ مہمان کا حق ہوتا ہے جو تکلیف اُٹھا کر آیا ہے اس واسطے میں اس حق کو ادا کرنے کیلئے باہر آگیا ہوں۔“ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۱۶۳) بَاب ٨٥: إِكْرَامُ الضَّيْفِ وَخِدْمَتُهُ إِيَّاهُ بِنَفْسِهِ مہمان کے ساتھ عزت سے پیش آنا اور خود اس کی خدمت کرنا وَقَوْلُهُ تَعَالَى : ضَيْفِ اِبْراهِيمَ الْمُكْرَمِينَ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ابراہیم کے مہمان جن کے (الذاريات: ٢٥) قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يُقَالُ ساتھ عزت سے پیش آیا گیا۔ابو عبد اللہ (امام بخاری نے کہا: کہا جاتا ہے وہ مہمان ہے اور وہ هُوَ زَوْرٌ وَهَؤُلَاءِ زَوْرٌ وَضَيْفٌ وَمَعْنَاهُ سب مہمان ہیں۔(لفظ زور اور ضَيْف مفرد اور أَضْيَافُهُ وَزُوَّارُهُ لِأَنَّهَا مَصْدَرٌ مِثْلُ قَوْمٍ جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ) اس کا معنی