صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 557
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۵۷ ۷۸ - كتاب الأدب ہے اس لئے اس کی مشکلات ظاہر ہیں۔تاہم حضرت اقدس ہمیشہ ایسے موقعہ پر بھی پورا التزام مہمان نوازی کا فرماتے تھے۔۶ اکتوبر کی شام کو اُس نے حضرت اقدس سے ملاقات کی۔آپ نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ یہ ہمارا مہمان ہے، اس کے کھانے کا انتظام بہت جلد کر دینا چاہیے۔ایک شخص کو خاص طور پر حکم دیا کہ ایک ہندو کے گھر اس کے لئے بندوست کیا جاوے۔چنانچہ فوراً یہ انتظام کیا گیا۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مر تبہ شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب حصہ اول صفحہ ۱۳۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے ایک دفعہ کشمیر سے آئے ہوئے ایک مہمان کا ذکر ہوا کہ وہ چاول کھانے کے عادی ہیں اور یہاں نہ ملنے کی وجہ سے وہ تکلیف میں ہیں۔آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلفِينَ (ص: ۸۷) ہمارے مہمانوں میں سے جو تکلف کرتا ہے اسے تکلیف ہوتی ہے اس لئے جو ضرورت ہو کہہ دیا کرو۔“ پھر آپ نے حکم دیا کہ ان کے لئے چاول پکوادیا کرو۔(ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۴۸۲) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت المہدی میں بروایت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری لکھا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود بیت الفکر میں (مسجد مبارک کے ساتھ والا حجرہ جو حضرت صاحب کے مکان کا حصہ ہے) لیٹے ہوئے تھے اور میں پاؤں دبا رہا تھا کہ حجرہ کی کھڑکی پر لالہ شرمپت یا شاید لالہ ملاوامل نے دستک دی۔میں اُٹھ کر کھڑ کی کھولنے لگا مگر حضرت صاحب نے بڑی جلدی اُٹھ کر تیزی سے جا کر مجھ سے پہلے زنجیر کھول دی اور پھر اپنی جگہ بیٹھ گئے اور فرمایا: آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہیئے۔“ (سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۸۹ صفحه ۲۶،۶۵) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک بہت شریف اور بڑے غریب مزاج احمد ی سیٹھی غلام نبی صاحب ہوتے تھے جو رہنے والے تو چکوال کے تھے مگر پنڈی میں دکان کیا کرتے تھے ، انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ