صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 556 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 556

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۵۶ -ZA - كتاب الأدب شریح : حَقُ الضَّيْفِ : مہمان کا حق۔مہمان نوازی اتنا اہم اور بڑا خلق ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت اور روزہ بھی اس کے آگے روک بنے تو ایسی عبادت اور ایسے روزے چھوڑ دینے اور مہمان کا حق ادا کرنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی جیسا کہ زیر باب حدیث میں امام بخاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عبد اللہ بن عمرو کو یہ تاکید اور ارشاد نقل کیا ہے کہ تم ایسی عبادتوں اور روزوں سے دست کش ہو جو تمہارے ملاقاتیوں کے لئے روک بنتی ہیں۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک قادیان کی اوپر کی چھت پر چند مہمانوں کے ساتھ کھانا کھانے کے انتظار میں تشریف فرما تھے اس وقت ایک احمدی دوست میاں نظام دین صاحب ساکن لدھیانہ جو بہت غریب آدمی تھے اور ان کے کپڑے بھی پھٹے پرانے تھے حضور سے چار پانچ آدمیوں کے فاصلہ پر بیٹھے تھے۔اتنے میں چند معزز مہمان آکر حضور کے قریب بیٹھتے گئے اور ان کی وجہ سے ہر دفعہ میاں نظام دین کو پرے ہٹنا پڑا۔حتی کہ وہ ہٹتے ہٹتے جو تیوں کی جگہ پر پہنچ گئے۔اتنے میں کھانا آیا تو حضور نے جو یہ سارا نظارہ دیکھ رہے تھے ایک سالن کا پیالہ اور کچھ روٹیاں ہاتھ میں اٹھالیں اور میاں نظام دین سے مخاطب ہو کر فرمایا : آؤ میاں نظام دین! ہم اور آپ اندر بیٹھ کر کھانا کھائیں۔یہ فرما کر حضور مسجد کے ساتھ والی کو ٹھڑی میں تشریف لے گئے اور حضور نے اور میاں نظام دین نے کو ٹھڑی کے اندر اکٹھے بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں کھانا کھایا۔اس وقت میاں نظام دین خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور جو لوگ میاں نظام دین کو عملاً پرے دھکیل کر حضرت مسیح موعود کے قریب بیٹھ گئے تھے وہ شرم سے کئے جاتے تھے۔“ سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه ۱۷۴) حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ایک ہندو سادھو کوٹ کپورہ سے آیا اور حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا۔مسلمانوں کے لئے تو کوئی خاص تردد اور تکلیف نہیں ہو سکتی کیونکہ لنگر جاری تھا اور جاری ہے، وہاں انتظام ہر وقت رہتا ہے لیکن ایک ہندو مہمان کے لئے خصوصیت سے انتظام کرنا پڑتا ہے اور چونکہ وہ انتظام دوسروں کے ہاں کرانا ہوتا