صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 555
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۵۵ ۷۸ - كتاب الأدب قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عبد اللہ بن عمرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَمْ أَخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ قُلْتُ بَلَى قَالَ آپ نے فرمایا: کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم رات کو فَلَا تَفْعَلْ قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ فَإِنَّ کھڑے عبادت کرتے ہو اور دن کو روزے رکھتے لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِكَ ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں ضرور۔ آپ نے عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فرمایا: ایسانہ کرو۔ اُٹھ کر عبادت بھی کرو اور سوبھی اور روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو کیونکہ تمہارے وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّكَ عَسَى جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی بھی أَنْ يَقُولَ بِكَ عُمُرٌ وَإِنَّ مِنْ حَسْبِكَ تم پر حق ہے اور تم سے ملاقات کرنے والے کا أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور فَإِنَّ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِكَ امید ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہو اور تمہارے لئے یہ الدَّهْرُ كُلُّهُ قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ کافی ہے کہ مہینہ میں تین روزے رکھو کیونکہ ہر عَلَيَّ۔ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ غَيْرَ ذَلِكَ نیکی کا بدلہ اس سے دس گنا ہے۔ یہ گویا ساری عمر قَالَ فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ کے روزے ہوئے (حضرت عبداللہ بن عمرو) قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشَدِّدَ عَلَيَّ قُلْتُ إِنِّي کہتے تھے: میں نے سختی کی اور مجھ پر سختی کی گئی۔ أُطِيقُ غَيْرَ ذَلِكَ قَالَ فَصُمْ صَوْمَ نَبِيِّ میں نے کہا: میں اور بھی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ اللهِ دَاوُدَ قُلْتُ وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ ۖ نے فرمایا: پھر ہفتہ میں تین روزے رکھو۔ کہتے تھے: میں نے سختی کی اور مجھ پر سختی کی گئی۔ میں نے دَاوُدَ قَالَ نِصْفُ الدَّهْرِ۔ کہا: میں اور بھی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر اللہ کے نبی داؤد کا روزہ رکھو۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی حضرت داؤد کا روزہ کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: آدھی عمر کے روزے۔ أطرافه: ۱۱۳۱، ۱۱۵۲، ۱۱۵۳، ۱۹۷۴، ۱۹۷۵، ۱۹۷۹ ، ۱۹۷۷، ۱۹۷۸، ۱۹۷۹، ۱۹۸۰، ٣٤١٨، ٣٤١٩، ٣٤٢٠، ٥٠٥٢، ٥٠٥، ۵٠٥٤، ٥۱۹۹، ٦٢٧٧۔