صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 554
صحیح البخاری جلد ۱۴ وولد ۷۸ - كتاب الأدب الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ زہری نے (سعید) ابن مسیب سے، سعید نے عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، حضرت ابو ہریرہ أَنَّهُ قَالَ لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ نے نبی صلی الم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مومن ایک ہی سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ۔ ڈسا جاتا۔ تشريح : لَا يُلْدَعُ الْمُؤْمِنُ مِنْ مُخَرٍ مَرَّتَيْنِ: مومن ایک سوراخ سے سے دو دفعہ نہیں ڈسا ۔ عنوان باب میں امام بخاری نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان کا پر حکمت قول نقل کیا ہے کہ انسان تجربہ سے سیکھتے سیکھتے حکمت اور دانائی کی منازل طے کرتا ہے تو حکیم کہلاتا ہے۔ زیر باب حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جامع کلمات میں سے ایک جامع اور پر حکمت کلمہ بیان کیا گیا ہے جو کہ انسانی ترقیات میں چاہے وہ مادی ہوں یا روحانی، سائنسی ہوں یا اخلاقی، ان کا ایک بڑا حصہ اسی سے ترقی پذیر ہوا کہ ایک جگہ سے ٹھوکر کھائی، نقصان اُٹھایا تو پھر اس سے بچنے کی کوشش کی۔ جس بل یا سوراخ سے انسان ایک دفعہ ڈسا جائے دوبارہ اس میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔ اس مشق نے انسان کو لامتناہی ترقیات عطا کی ہیں۔ یہی اس حدیث کا مرکزی نقطہ ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وو مومن ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ نہیں کاٹا جاتا۔ ایک بار جس راہ سے مصیبت آئے دوبارہ اس میں نہ پھنسو ۔ “ ( روئیداد جلسہ دعا، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه (۶۱۹) نیز فرمایا: مصیبت پہنچنے والی تو ضرور پہنچ جاتی ہے مگر کسی قدر رعایت انتظام ظاہر مسنون ہے۔ جس نے دیا اُس نے لیا۔ لیکن آئندہ بے احتیاطی کے طریقوں سے مجتنب " رہنا ضروری ہے۔ لا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ (مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۳۰) بَاب ٨٤ : حَقُّ الضَّيْفِ مہمان کا حق ٦١٣٤ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ۲۱۳۴: اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ روح بن عبادہ نے ہمیں بتایا حسین نے ہم سے عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بیان کیا۔ انہوں نے یحی بن ابی کثیر سے، بچی نے بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے ، ابو سلمہ نے حضرت