صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 553
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۵۳ ۷۸ - كتاب الأدب بھی آپ پیوند لگائیں گے آپ کا تعلق خدا تعالیٰ سے قائم کرنے والی ہوگی۔اسی لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اخلاقی تعلیمات کو معمولی نہ سمجھو۔یہ نیکیاں ہیں ان کو اہمیت دو۔یہاں تک فرمایا: اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنا بھی تو ایک نیکی ہے اور کچھ نہیں ہو تا تو ہنس کر بات کر لیا کرو۔آج کل کے زمانے میں بعض لوگ بڑے فخر سے نئی تہذیب کا یہ محاورہ پیش کرتے ہیں کہ مسکرا کے ملو تمہیں اس کی کوئی قیمت نہیں دینی پڑتی۔آج سے چودہ سو سال پہلے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ نصیحت فرما چکے ہیں کہ خندہ پیشانی سے ہی پیش آجاؤ۔یہ مراد نہیں کہ یہی کافی ہے۔موجودہ نصیحت کہ مسکرا کر ملو تمہیں اس کی کوئی قیمت نہیں دینی پڑتی۔ایک سرسری اور محض ایک مصنوعی سی نصیحت ہے۔اس میں گہرائی نہیں ہے۔اس بات کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ جہاں پیسے دینے پڑیں وہاں بے شک نیکی نہ کرو کیونکہ دلیل یہ قائم کی گئی ہے کہ دوسرے سے مسکرا کر پیش آؤ کیونکہ تمہیں مسکراہٹ کی قیمت نہیں دینی پڑتی۔بصورت دیگر اگر قیمت دینی بھی پڑے تو پھر بے شک نہ مسکراؤ۔اسلامی تعلیم تو بہت گہری ہے اور اس سے بہت زیادہ ہے۔مسکراؤ بھی اور اپنے پہلے سے دو بھی اور قربانیاں بھی کرو۔یہ اسلامی تعلیم ہے مگر اگر کسی وجہ سے تم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم اتنا تو کرو کہ خندہ پیشانی سے بھائی سے پیش آؤ۔“ خطبات طاہر، خطبہ جمعہ فرموده ۲۷ ، مئی ۱۹۹۴ء، جلد ۱۳ صفحه ۴۰۲،۴۰۱) بَاب ۸۳: لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ مؤمن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا وَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَا حَكِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرِبَةٍ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان ) نے کہا: دانشمند نہیں مگر تجربہ کار ہی۔٦١٣٣: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ۶۱۳۳: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں عَنْ عُقَيْلِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ بتایا۔انہوں نے عقیل سے ، عقیل نے زہری سے، (مسلم، کتاب البر والصلة، باب استجاب طلاقة الوجه عند اللقاء)