صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 552
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۵۲ ۷۸ - كتاب الأدب يُرِيهِ إِيَّاهُ وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شَيْءٌ۔کہا: یعنی اپنے کپڑے میں جسے آپ انہیں دکھا رہے تھے اور مخرمہ کے مزاج میں کچھ تیزی تھی۔وَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ۔اور حماد بن زید نے بھی ایوب سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ اور حاتم بن وردان نے (اپنی سند میں یوں) کہا: ہم عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ سے ایوب نے بیان کیا۔انہوں نے ابن ابی ملیکہ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے ، انہوں نے حضرت مسوڑ سے روایت کی (کہ اس میں یوں ہے:) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ۔کچھ قبائیں آئیں۔أطرافه ،۲۵۹۹ ،۲۶۵۷ ۳۱۲۷، ۵۸۰۰، ٥٨٦۲- تشریح: الْمُدَارَ اةُ مَعَ النَّاسِ: لوگوں کے ساتھ خاطر مدارات سے پیش آنا۔مذہب کو عام طور پر پیوست، خشکی اور کرختگی کے ساتھ نتھی کیا جاتا ہے جو کہ مذہب کی بنیادی روح کے ہی خلاف ہے۔مذہب تو انسانی قوی کی ترقی اور اس میں پنہاں استعدادوں کے ظہور کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ نے انبساط، ہننے ، خوش ہونے اور خوشی پر جذبات کے اظہار کی صفت انسان کی سرشت میں ودیعت کی ہے۔پس اس کا بر محل اظہار خدا کو بہت محبوب اور پسند ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصائح زندگی کے ہر حصے پر چھائی ہوئی ہیں۔ہر نفسیاتی بیماری سے تعلق رکھتی ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحتوں کو بڑی مضبوطی سے تھام لیں۔یہی حبل اللہ ہے حقیقت میں۔اسے پکڑ لیں تو پھر کبھی منتشر نہیں ہوں گے۔فرماتے ہیں: دیکھو جب تیسرا آدمی بیٹھا ہو تو ایسی زبان میں بات نہ کیا کرو جس سے اس کے لئے ٹھوکر کا سامان ہو ، وہ سمجھے کہ مجھے الگ کر دیا گیا ہے اور دل میں رنجش محسوس کرے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: یہ حضرت ابوذر کی روایت ہے ، مسلم کتاب البر سے لی گئی ہے معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔نیکی کا ایک ازلی پیوند خدا تعالیٰ کی ذات سے ہے۔جس نیکی سے