صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 545 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 545

صحیح البخاری جلد ۱۴ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ولده ۷۸ - كتاب الأدب حیاء کے معنے ہیں رُکنا اور رُکنا ایسی باتوں سے چاہیے جو مضر ہوں نہ کہ اُن سے جو فائدہ مند ہوں۔ “ تفسیر کبير ، سورة النور ، زیر آیت لَيْسَ عَلَى الْأَعْلى ، جلد ۶ صفحه (۴۰۵) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”حیا سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ نیک کاموں سے انسان حیا کرے یا بہادری کے کاموں سے انسان حیاء کرے۔ وہ مواقع جہاں جان دینے کی باتیں ہو رہی ہوں وہاں حیا بے حیائی ہے اور شرم کا مقام ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ وہ وہاں حیا کا مضمون بالکل اُلٹ جاتا ہے کیونکہ ایسا شخص جہاں مرد جان دینے کے لئے آگے بڑھ رہے ہوں اور وہ پیچھے ہٹ رہا ہو ، حیا اس کو مانع نہیں ہوا کرتی بلکہ بہت ہی بڑا بے حیا ہی ہو گا جو ایسے موقع پر مردوں سے الگ ہو کر پھر اس نیک کام سے محروم رہ جائے جو اس وقت کا بہترین کام ہے یعنی جب جنگ کا دور ہو ، جہاد ہو رہا ہو اور لوگ جانیں دے رہے ہوں اس وقت وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں حیاء کی وجہ سے پیچھے ہٹ گیا۔ اس لئے بعض جگہ پیچھے ہٹنا حیاء کا موجب نہیں بلکہ بے حیائی کی وجہ ہوتی ہے۔ پس موقع اور محل کے مطابق ان باتوں کے معنوں کو سمجھنا چاہیے لیکن اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ اپنے بچوں کو بزدل نہ بنائیں۔ حیاء کے بہانے ان کو ایسا نہ بنادیں کہ ہر وہ کام جہاں ان کو آگے بڑھ کر حصہ لینا چاہئیے اس سے وہ پیچھے ہٹ جائیں۔ یہ حیاء نہیں ہو گی بلکہ نقائص ہیں یہ اور ان کا کوئی بھی نام رکھیں، یہ حیاء نہیں ہے۔“ الازهار لذوات الحمار ، خطاب الجنہ اماء الله بر موقع جلسہ سالانہ جرمنی ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء، جلد ۲ صفحه ۴۴۶،۴۴۵) بَاب ۸۰: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: آسانی کیا کرو اور مشکلات میں نہ ڈالو وَكَانَ يُحِبُّ التَّخْفِيفَ وَالتَّسَرِّي اور آپ لوگوں کے لئے تخفیف اور آسانی پسند کیا عَلَى النَّاسِ۔ کرتے تھے۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس بولاق میں اس جگہ لفظ ” وَالْمُسْر “ ہے۔ ( فتح الباری جزء • احاشیہ صفحہ ۶۴۴ الدلد(