صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 544
صحیح البخاری جلد ۱۴ وندند ۷۸ - كتاب الأدب هِيَ شَجَرَةُ كَذَا فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ میں نے چاہا کہ کہوں وہ کھجو ر ہے اور چونکہ میں اس النَّخْلَةُ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌ فَاسْتَحْيَيْتُ وقت نوجوان لڑکا ہی تھا اس لئے میں شرما گیا۔ فَقَالَ هِيَ النَّخْلَةُ۔ آپ نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔ وَعَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا خُبَيْبُ بْنُ اور شعبہ سے (اسی سند سے ) مروی ہے کہ ہمیں عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ حبيب بن عبدالرحمن نے بتایا۔ انہوں نے حفص بن عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ وَزَادَ فَحَدَّثْتُ بِهِ عاصم سے، حفص نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت عُمَرَ فَقَالَ لَوْ كُنْتَ قُلْتَهَا لَكَانَ کرتے ہوئے ایسا ہی بتایا اور اس میں اتنا اور بڑھایا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا۔ کہ پھر میں نے حضرت عمرؓ سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: اگر تم نے یہ کہا ہوتا تو مجھے فلاں فلاں بات سے زیادہ پیارا ہوتا۔ أطرافه: ٦١، ۶۲، ۷۲، ۱۳۱، ٢٢٠٩ ، ٤٦٩٨، ٥٤٤٤، ٥٤٤٨، ٦١٤٤۔ ٦١٢٣: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۶۱۲۳: مد د نے ہم سے بیان کیا کہ مرحوم (بن سنا مَرْحُومٌ سَمِعْتُ ثَابِتًا أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا عبد العزيز) نے ہمیں بتایا۔ میں نے ثابت سے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہ کہتے تھے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَقَالَتْ هَلْ پاس آئی کہ اپنے تئیں آپ کے سامنے پیش کرے لَكَ حَاجَةٌ فِيَّ فَقَالَتْ ابْنَتُهُ مَا أَقَلَّ اور وہ کہنے لگی: کیا آپ کو میری ضرورت ہے ؟ حَيَاءَهَا فَقَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ عَرَضَتْ حضرت انس کی بیٹی سن کر بولی: کتنی کم حیا ہے۔ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (حضرت انس نے) کہا: یہ تم سے اچھی ہے جس نَفْسَهَا۔ طرفه: ٥١٢٠ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا۔ تشريح : مَا لَا يُسْتَحْيَا مِنَ الْحَقِّ لِلتَّفَقه في الدين: دین کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے حق بات کے پوچھنے) سے جو نہ شرمائے۔