صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 543
صحیح البخاری جلد ۱۴ ولد ۷۸ - كتاب الأدب تعلقات کی حیا نہیں ہے۔ حیافی ذاتہ ایک خُلق ہے جو ہر گناہ کے مقابل پر ایک پر دہ ہے۔ اگر آپ اپنی حیاء کی حفاظت کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدا کے فرشتے آپ کی ہر قسم کی خرابیوں اور گناہوں سے حفاظت سے حفاظت کریں گے۔“ ( الازهار لذوات الخمار ، خطاب لجنہ اماء الله بر موقع جلسہ سالانہ جرمنی ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء، جلد ۲ صفحه ۴۴۵) بَاب ۷۹ : مَا لَا يُسْتَحْيَا مِنَ الْحَقِّ لِلتَّفَقُهِ فِي الدِّينِ دین کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے حق بات (کے پوچھنے) سے جو نہ شرمائے ٦١٢١ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ٦١٢١ : اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ کیا، کہا : مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عروہ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ حضرت زینب بنت ابی سلمہ سے، حضرت زینب جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ آپ فرماتی تھیں: ام سلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! اللہ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِ مِنَ الْحَقِّ فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلُ إِذَا حق بات سے نہیں شرماتا۔ کیا عورت کے لئے بھی احْتَلَمَتْ فَقَالَ نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ نہانا ضروری ہے اگر اسے احتلام ہو؟ آپ نے فرمایا: ہاں، جب پانی دیکھے۔ أطرافه: ۱۳۰ ، ۲۸۲، ۳۳۲۸، ۶۰۹۱ ٦١٢٢ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۶۱۲۲: آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِنَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ محارب بن دثار نے ہم عُمَرَ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ سے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ کی مثال ایک سرسبز درخت کی سی ہے جس کے شَجَرَةٍ خَضْرَاءَ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَلَا ہے نہیں گرتے اور نہ جھڑتے ہیں۔ لوگ کہنے يَتَحَاتُ فَقَالَ الْقَوْمُ هِيَ شَجَرَةُ كَذَا گلگے : وہ فلاں درخت ہے، وہ فلاں درخت ہے۔