صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 31 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 31

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۱ ۷۵ - كتاب المرضى الثُلُثَيْنِ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ثُمَّ کروں اور آدھی رہنے دوں؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ - ثُمَّ مَسَحَ میں نے کہا: تو پھر ایک تہائی کی وصیت کروں يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَبَطْنِي ثُمَّ قَالَ اور اس بچی کے لئے دو تہائی چھوڑوں؟ آپ نے اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ فرمایا: ایک تہائی اور ایک تہائی بہت ہے۔ پھر فَمَا زِلْتُ أَجِدُ بَرْدَهُ عَلَى كَبِدِي آپ نے اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھا پھر اپنا ہاتھ فِيمَا يُخَالُ إِلَيَّ حَتَّى السَّاعَةِ۔ میرے چہرے پر اور میرے پیٹ پر پھیرا اور دعا کی: اے اللہ ! سعد کو شفا دے اور اس کی ہجرت کو پورا فرما اور اب بھی جب مجھے خیال آتا ہے میں اپنے جگر پر آپ کے ہاتھ کی ٹھنڈک پاتا ہوں۔ أطرافه : ٥٦، ١٢٩٥، ٢٧٤٢، ٢٧٤٤، ۳۹٣٦ ، ٤٤٠۹، ٥٣٥٤، ٥٦٦٨، ٦٣٧٣، ٦٧٣٣ - ٥٦٦٠ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ۵۶۶۰: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: جریر جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ (بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش التَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ ہے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ دَخَلْتُ حارث بن سوید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے تھے کہ میں رسول عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپؐ کو سخت وَهُوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا فَمَسَسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْدًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ بخار تھا تو میں نے آپ کو اپنے ہاتھ سے چھوا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کو تو نہایت سخت بخار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ إِنِّي مُجھے اتنا بخار اتنا بخار ہوتا ہے کہ جتنا تم میں سے دو آدمیوں أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ کو ہوتا ہے۔ میں نے کہا: یہ اس لئے کہ آپ کو فَقُلْتُ ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ فَقَالَ دہرا ثواب ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ فرمایا: ہاں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا کشمیینی کی روایت کے مطابق اس جگہ لفظ جنتی ہے۔ (فتح الباری جزء ۰ اصفحہ ۱۵۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔