صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 30 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 30

۷۵ کتاب المرضى صحیح البخاری جلد ۱۴ سامانوں سے غافل ہو جاؤ تو وہ یکدم ہی تم پر آپڑیں۔اس صورت میں دشمن کے سامنے ایک دستہ کھڑار ہے اور ایک دستہ فوج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلیت میں آنے والے تمام برگزیدہ وجود جن میں اول نمبر پر حضرت ابو بکر اور آخری دور میں امام الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے بعد قیامت تک آنے والے آپ کے خلفاء ہیں جن کی اقتداء میں نصیب ہونے والی ایک نماز انسان کے بھاگ جگا سکتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی میرے پیچھے نماز ایک مرتبہ پڑھ لیوے تو وہ بخشا جاتا ہے۔اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جو لوگ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ (التوبۃ: ۱۱۹) کے مصداق ہو کر نماز کو آپ کے پیچھے ادا کرتے ہیں تو وہ بخشے جاتے ہیں۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۳۷۸) باب ۱۳: وَضْعُ الْيَدِ عَلَى الْمَرِيضِ بیمار پر ہاتھ رکھنا ٥٦٥٩ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۵۶۵۹ مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ا أَخْبَرَنَا الْجُعَيْدُ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ جعيد بن عبد الرحمن) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سَعْدٍ أَنَّ أَبَاهَا قَالَ تَشَكَّيْتُ بِمَكَّةَ عائشہ بنت سعد سے روایت کی کہ ان کے باپ شَكْرًا شَدِيدًا فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى حضرت سعد (بن ابی وقاص ) نے کہا کہ میں مکہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ يَا میں نہایت سخت بیمار ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و اللَّهِ إِنِّي أَتْرُكُ مَالًا وَإِنِّي لَمْ أَتْرُكُ میرے پاس میری عیادت کو آئے میں نے کہا: إِلَّا بِنْتَا وَاحِدَةً فَأُوصِي بِثْلُقَيْ مَالِي ایک ہی بیٹی کے سوا میں نے اپنا کوئی وارث نہیں وَأَتْرُكُ الثُّلُثَ فَقَالَ لَا قُلْتُ فَأُوصِي چھوڑا تو کیا میں اپنی جائیداد کی دو تہائی کی وصیت بِالنِّصْفِ وَأَتْرُكُ النِصْفَ قَالَ لَا کروں اور ایک تہائی رہنے دوں؟ آپ نے فرمایا: قُلْتُ فَأُوصِي بِالثُّلُثِ وَأَتْرُكُ لَهَا نہیں۔میں نے کہا: تو کیا آدھی جائیداد کی وصیت یا نبی اللہ ! میں جائیداد چھوڑے جارہا ہوں اور اپنی