صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 542
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۴۲ ۷۸ - كتاب الأدب قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو مسعود (انصاری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی نبوت کے الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا کلام سے جو لوگوں نے محفوظ رکھا ہے یہ بھی ہے کہ شِئْتَ ۔ أطرافه: ٣٤٨٣، ٣٤٨٤- جب تم بے حیا ہو پھر جو چاہو کرو۔ تشريح : إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ: جب تم بے حیا ہو تو پھر جو چاہو کر و۔ علامہ جرجانی بیان کرتے ہیں کہ حیاء کا معنی نفس کا کسی امر سے رکنا اور ملامت کے خوف سے اُسے چھوڑ دینا ہے۔ (اقرب الموارد- حیی) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اکثر گناہوں کا ارتکاب بے حیائی کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس پہلو پر انسان بہت کم نظر کرتا ہے کہ ہر گناہ کا آغاز بے حیائی سے ہوتا ہے اور حیاء توڑ کر گناہ کرنا پڑتا ہے۔ پہلی دفعہ اگر کوئی بچہ چوری کرے تو چوری سے بھی اس کو حیاء آتی ہے، اگر کوئی پہلی بار جھوٹ بولے تو جھوٹ سے بھی اس کو حیاء آتی ہے، بد تمیزی کرے اور اگر پہلی بار بالا رادہ بد تمیزی کرتا ہے تو لازماً اس کو اس بد تمیزی سے بھی حیاء آئے گی۔ پس حیاء ہر گناہ کے رستے کی ایک روک ہے اور بے حیائی ہر گناہ کے لئے دروازے کھولتی ہے۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ انبیاء جو بہت حکیمانہ کلام کیا کرتے تھے ان کے پر حکمت کلام کا یہ ایک نمونہ ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : اذْلَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئت جب تم میں حیاء ہی باقی نہیں رہی تو پھر جو چاہے کرتا پھر ۔ فارسی میں بھی ایک محاورہ ہے جو غالباً اسی انبیاء کے حکیمانہ قول سے لیا گیا ہے۔ ”بے حیاء باش ہر چہ خواہی کن“ بے حیاء ہو جا بس یہ شرط ہے پھر جو چاہے کرتا پھر ، پھر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو یہ پردے کی روح ہے اور پر دے ہی کی نہیں ہر عصمت کی روح ہے اور یہ وہ روح ہے جو عورتوں سے خاص نہیں ہے بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں سے خاص ہے اس لئے حیاء کی حفاظت کریں اور اپنے بچوں میں بھی حیاء کو قائم کریں۔ حیاء سے مراد صرف مردوں، عورتوں کے