صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 541
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۴۱ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: - كتاب الأدب -2A ”حضرت انس بیان کرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے حیائی ہر مرتکب کو بد نما بنادیتی ہے۔یہاں عورت کی بات نہیں ہے ہر کرنے والے کو فرمایا۔جو بھی وجو د جو بھی شخص مرد ہو یا عورت بے حیاء ہوتا چلا جائے وہ اسی حد تک بد نما ہوتا چلا جاتا ہے اس لئے آپ نے ایسے لوگ بھی دیکھیں ہوں گے جو بے ہودہ کاروبار میں پڑے ہوتے ہیں، گندے کاروبار میں ان کا چہرہ دیکھیں اس سے شدید قسم کی انسان کو نفرت پیدا ہوتی ہے وہ دھکے دیتا ہے۔رشوت بُری بات ہے لیکن کچھ لوگ شرما کر رشوت لیتے ہیں۔ابھی تازہ تازہ راشی بنے ہوتے ہیں ان کے چہروں پر وہ بھیانک پن نہیں آتا لیکن جو پکے رشوت کے عادی بن چکے ہیں ان کا چہرہ ایسا منحوس ہو جاتا ہے کہ وہ دیکھتے ہی انسان کو دھکے دیتا ہے، مسخ ہو چکا ہوتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حیاء کے مضمون کو صرف عورت سے نہیں باندھا بلکہ مرد اور عورت دونوں سے برابر باندھا ہے۔فرماتے ہیں: بے حیائی اپنے ہر بے حیا کو بدنما بنادیتی ہے اور شرم و حیاء ہر حیادار کو حسن سیرت بخشتا ہے اور اسے خوبصورت بنا دیتا ہے۔پس ہر عورت کے دل کی جو فطری کمزوری یا فطری طاقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو حسین دیکھنا چاہتی ہے اور فی الحقیقت حسین بنانا چاہتی ہے اس کے حسن کا راز اس کی حیاء میں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول گہرائی تک سچا ہے۔اپنے حیاء کو قائم رکھیں اللہ آپ کے حسن کو قائم رکھے گا۔“ الازهار لذوات الخمار ، خطاب لجنہ اماء الله بر موقع جلسہ سالانہ جرمنی ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء، جلد ۲ صفحه ۴۴۳،۴۴۲) بَاب ۷۸: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ جب تم بے حیا ہو تو پھر جو چاہو کر و ٦١٢٠: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۲۱۲۰: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ نے ہمیں بتایا۔منصور نے ہم سے بیان کیا۔انہوں رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ نے ربعی بن حراش سے روایت کی کہ حضرت