صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 540
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۴۰ ۷۸ - كتاب الأدب ہر مرتکب کو بدنما بنا دیتی ہے اور شرم و حیا ہر حیادار کو حسن و سیرت بخشتا ہے اور اسے خوبصورت بنا دیتا ہے۔لے پس یہ خوبصورتی ہے جو انسان کے اندر نیک اعمال کو بجا لانے اور اس کی تحریک سے پیدا ہوتی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی شرم دل میں ہو جیسا کہ اس سے شرم کرنے کا حق ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں شرم بخشی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں نہیں۔بلکہ جو شخص شرم رکھتا ہے وہ اپنے سر اور اس میں سمائے ہوئے خیالات کی حفاظت کرے۔پیٹ اور جو اس میں خوراک بھرتا ہے اس کی بھی حفاظت کرے۔موت اور ابتلا کو یاد رکھنا چاہیئے۔جو شخص آخرت پر نظر رکھتا ہے وہ دنیوی زندگی کی زینت کے خیالات کو چھوڑ دیتا ہے پس جس نے یہ طرز زندگی اختیار کیا اُس نے واقعی خدا کی شرم رکھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے۔پس ذہن میں آنے والے ہر خیال کو اللہ تعالیٰ کی شرم لئے ہوئے آنا چاہیئے۔اگر کوئی بد خیال آتا بھی ہے تو اسے فوری طور پر جھٹکا جانا چاہیئے، استغفار کے ذریعہ سے اس کو جھٹکنا چاہیئے۔جب خیالات پاکیزہ ہوں گے تو عمل بھی پاک ہوں گے۔پھر لغویات ایسے انسانوں پر کوئی اثر نہیں ڈال سکیں گی۔اسی طرح انسان اپنی روزی کے بھی حلال ذرائع استعمال کرے، محنت کرے، محنت سے کمائے، بجائے اس کے کہ دوسروں کے پیسے پر نظر رکھ کر چھینے کی کوشش کرے یا غلط طریق سے پیسے کمائے۔پاکستان وغیرہ میں رشوت وغیرہ بھی بڑی عام ہے۔یہ سب حلال کی کمائیاں نہیں ہیں۔آپؐ نے یہی فرمایا کہ اپنے پیٹ اور اس میں جو خوراک بھرتا ہے اس کی بھی حفاظت کرے۔پس جائز کمائی سے اپنا بھی اور اپنے بیوی بچوں کا بھی پیٹ پالے اور ایسے ہی لوگ ہیں جو پھر اللہ اور اس کے رسول پر صحیح ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔66 (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۱۵ جنوری ۲۰۱۰ء، جلد ۸ صفحه ۳۸،۳۷) (ترمذی، کتاب البر والصلة، باب ما جاء فى الفحش والتفحش، حدیث نمبر ۱۹۷۴) (ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع، باب ۲۴/ ۸۹ حدیث نمبر ۲۴۵۸)