صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 539
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۳۹ ۷۸ - كتاب الأدب عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُعَاتِبُ أَخَاهُ فِي شخص کے پاس سے گزرے اور وہ حیا کی وجہ سے الْحَيَاءِ يَقُولُ إِنَّكَ لَتَسْتَحْيِي حَتَّى اپنے بھائی سے ناراضی کا اظہار کر رہا تھا۔ کہہ رہا كَأَنَّهُ يَقُولُ قَدْ أَضَرَّ بِكَ فَقَالَ تھا: تم اتنی شرم کرتے ہو یہاں تک کہ - گویا وہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہہ رہا تھا ۔ اس نے تمہیں نقصان پہنچایا ہے۔ دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا: اسے رہنے دو کیونکہ حیاء بھی ایمان سے ہی ہوتی ہے۔ طرفه: ٢٤ - ٦١١٩: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ۶۱۱۹: علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مَوْلَی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے کی۔ ابو عبد الله أَنَسٍ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ اسْمُهُ حضرت انس کے غلام سے روایت کی۔ ابو عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي عُتْبَةَ سَمِعْتُ (امام بخاری ) نے کہا: ان کا نام عبد اللہ بن ابی عقبہ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ تھا۔ میں نے حضرت ابو سعید سے سنا۔ وہ ابو سعید سے سنا۔ وہ کہتے تھے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءٌ مِّنَ الْعَذْرَاءِ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرم کیا کرتے تھے جو اپنے پردے میں فِي خِدْرِهَا ۔ اطرافه: ٣٥٦٢، ٦١٠٢- رہتی ہے۔ تشریح الحیاء: یعنی شرمانا اور مقبض ہونا۔ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ”حیا بھی ایک ایسی چیز ہے جو ایمان کا حصہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِّنَ الْإِيمان کہ حیا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔ اے پس ہر احمدی نوجوان کو خاص طور پر یہ پیش نظر رکھنا چاہئیے کہ آج کل کی برائیوں کو میڈیا پر دیکھ کر اس کے جال میں نہ پھنس جائیں ورنہ ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ ہمیشہ یہ بات ذہن میں ہو کہ میرا ہر کام خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے حیائی ا (مسلم، کتاب الایمان، باب شعب الايمان وافضلها ۔۔۔ حدیث نمبر (۵۹)