صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 538
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۳۸ ۷۸ - كتاب الأدب اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔غضب اور حکمت دو نو جمع نہیں ہو سکتے۔جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دیئے جاتے۔غضب نصف جنون ہے جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے۔بَاب ۷۷: الْحَيَاءُ حیا ( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱۰۴) ٦١١٧: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۲۱۱۷: آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيَ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ قتادہ نے ابو السوار عدوی (حسان بن حریث ) سے قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔ابوالسوار نے کہا: میں نے حضرت عمران بن حصین سے سنا۔وہ کہتے تھے : نبی صلی اللہ الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ فَقَالَ بُشَيْرُ علیہ وسلم نے فرمایا: حیا بھلائی ہی لاتی ہے۔بشیر بن بْنُ كَعْبٍ مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ إِنَّ کعب نے یہ سن کر کہا: حکمت کی کتابوں میں لکھا مِنَ الْحَيَاءِ وَقَارًا وَإِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ ہوا ہے کہ حیا سے ہی وقار ہوتا ہے اور حیا سے ہی سَكِينَةٌ فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ أُحَدِّثُكَ عَنْ سکینت حاصل ہوتی ہے۔حضرت عمران نے ان رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے کہا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صَحِيفَتِكَ۔روایت کرتے ہوئے بات بتا رہا ہوں اور تم اپنی کتاب سے مجھے بتارہے ہو۔٦١١٨: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :۲۱۱۸ احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عبد العزيز بن ابی سلمہ نے ہمیں بتایا۔ابن شہاب حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے سالم سے، سالم عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک