صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 537 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 537

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۳۷ حضرت خلیفہ اصیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: - كتاب الأدب -2A " قرآن کریم میں کہا ئر کو بعض دوسرے گناہوں سے ملا کر یہ بھی کھول دیا کہ ہر گناہ ور جو ہے وہ کبیرہ بن سکتا ہے جیسا کہ سورۃ شوری میں فرماتا ہے: وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كبير الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوری: ۳۸) اور جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں اور جب وہ غضبناک ہوں تو بخشش سے کام لیتے ہیں۔اس آیت میں۔۔۔غضبناک ہونے اور غصے اور طیش میں آنے کو بھی اللہ تعالیٰ نے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں کے ساتھ جوڑا ہے۔کیونکہ غضبناک ہونا بھی ایمان کو کمزور کرتا ہے اور بہت سے گناہ غصہ کی پیداوار ہیں۔معاشرے کا امن و سکون غصہ کی وجہ سے برباد ہوتا ہے۔انسان اگر سوچے کہ انسان کتنے گناہ اور زیادتیاں اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے خلاف عمل کر کے کر جاتا ہے اور ان کا خیال بھی نہیں آتا۔لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی انسان کی پردہ پوشی فرماتا رہتا ہے، باوجو د سزا دینے کی طاقت کے ، ذُو انتقام ہونے کے معاف کر دیتا ہے لیکن بندہ ذراذراسی بات پر غیظ و غضب سے بھر کر فساد کا ذریعہ بن جاتا ہے۔پس حقیقی مومن بننے کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے غصہ کو بھی قابو میں رکھو۔" (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۳ اپریل ۲۰۰۹، جلدی صفحه ۱۷۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” مرد کو چاہیے کہ اپنے قومی کو بر محل اور حلال موقعہ پر استعمال کرے۔مثلاً ایک قوت غضی ہے جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے۔جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۱۵۷) نیز فرمایا: یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آجاتا ہے اُس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہر گز نہیں نکل سکتیں۔وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن