صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 536 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 536

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۳۶ ۷۸ - كتاب الأدب فَقَالُوا لِلرَّجُلِ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ وہ ہے کہ میں اللہ کی شیطان رجیم سے پناہ لیتا ہوں۔النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لوگوں نے اس شخص سے کہا: کیا تم سنتے نہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں ؟ وہ کہنے لگا: میں لَسْتُ بِمَجْنُونٍ۔اطرافه: ٣٢٨٢، ٦٠٤٨ - دیوانہ نہیں ہوں۔حصین ٦١١٦: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ :٦١١٦: يحي بن یوسف نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ابوبکر نے جو عیاش کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔انہوں أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي نے ابو حسین (عثمان بن عاصم ) سے ، ابو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ نے ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصِنِي رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی قَالَ لَا تَغْضَبْ فَرَدَّدَ مِرَارًا قَالَ لَا صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ مجھے نصیحت فرمائیں۔آپ نے فرمایا: غصہ مت کیا کرو۔آپ نے بار بار تَغْضَبْ۔اس کو دہرایا۔فرمایا: غصہ مت کرو۔تشریح : الحَمدُ مِنَ الْغَضَبِ: غصہ سے بچا۔امام بخاری کتاب الادب میں معاشرتی آداب کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہوئے اسلامی شریعت کے اس حسن کو بطور خاص نمایاں کر کے دکھاتے ہیں کہ کامل شریعت وہ ہے جو تصویر کے دونوں رُخ پیش کرے۔اس سے پچھلے باب نمبر ۷۵ میں غصہ کے جو از بلکہ امر الہی کا بیان کیا کہ بر محل غصہ نہ صرف جائز ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جہاں غصہ کا جائز محل و موقعہ ہو وہاں غصہ کرنا حسن آداب اور اخلاق میں سے ایک خلق ہے مگر اللہ تعالیٰ کی منشاء اور شریعت کے خلاف اپنے نفس کی غلامی میں اور ہوائے نفسانیہ سے مغلوب ہو کر جہاں عقل ماری جاتی ہے اور جذبات کی رو میں بہہ کر انسان اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ایسا غصہ نہ جائز ہے اور نہ ہی کسی صورت مفید بلکہ ذہنی، عقلی، اخلاقی اور روحانی نقصان کا باعث ہے۔اللہ تعالٰی نے اسے کبار گناہوں کے ذیل میں بیان فرما کر اس کی سنگینی اور بد انجام سے ڈرایا ہے جیسا کہ زیر باب آیت میں بیان کیا گیا ہے۔وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبِيرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُواهُمْ يَغْفِرُونَ (الشوری: ۳۸) یعنی وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے بچتے ہیں اور جب وہ غصہ میں ہوتے ہیں تو وہ چشم پوشی کرتے ہوئے معاف کرتے ہیں۔فرمایا: الَّذِينَ يُنفِقُونَ في السَّرَاءِ وَالصَّرَاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران: ۱۳۵) یعنی جو آسائش اور تنگی میں خرچ کرتے ہیں اور خاص کر وہ غصے کو دباتے ہیں اور لوگوں سے در گزر کرتے ہیں۔اور اللہ اچھے کام کرنے والوں سے پیار رکھتا ہے۔