صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 536
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۳۶ ۷۸ - كتاب الأدب فَقَالُوا لِلرَّجُلِ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ وہ کہے کہ میں اللہ کی شیطان رجیم سے پناہ لیتا ہوں۔ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لوگوں نے اس شخص سے کہا: کیا تم سنتے نہیں جو لَسْتُ بِمَجْنُونٍ۔ اطرافه: ٣٢٨٢، ٦٠٤٨ - نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں ؟ وہ کہنے لگا: میں دیوانہ نہیں ہوں۔ ٦١١٦ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ ٦١١٦ : يحي بن یوسف نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ابوبکر نے جو عیاش کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔ انہوں أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي نے ابو حسین (عثمان بن عاصم) سے، ابو حصین هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ نے ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصِنِي رضی اللہ عنہ سے روایت قَالَ لَا تَغْضَبْ فَرَدَّدَ مِرَارًا قَالَ لَا صلى اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ مجھے نصیحت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: غصہ مت کیا کرو۔ آپ نے بار بار تَغْضَبْ ۔ اس کو دہرایا۔ فرمایا: غصہ مت کرو۔ تشريح الْحَذَرُ مِنَ الْغَضَبِ: غصہ سے بچنا۔ امام بخاری کتاب الادب میں معاشرتی آداب کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہوئے اسلامی شریعت کے اس حسن کو بطور خاص نمایاں کر کے دکھاتے ہیں کہ کامل شریعت وہ ہے جو تصویر کے دونوں رُخ پیش کرے۔ اس سے پچھلے باب نمبر ۷۵ میں غصہ کے جو از بلکہ امر الہی کا بیان کیا کہ بر محل غصہ نہ صرف جائز ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جہاں غصہ کا جائز محل و موقعہ ہو وہاں غصہ کرنا حسن آداب اور اخلاق میں سے ایک خلق ہے مگر اللہ تعالیٰ کی منشاء اور شریعت کے خلاف اپنے نفس کی غلامی میں اور ہوائے نفسانیہ سے مغلوب ہو کر جہاں عقل ماری جاتی ہے اور جذبات کی رو میں بہہ کر انسان اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ایسا غصہ نہ جائز ہے اور نہ ہی کسی صورت مفید بلکہ ذہنی، عقلی، اخلاقی اور روحانی نقصان کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کبار گناہوں کے ذیل میں بیان فرما کر اس کی سنگینی اور بد انجام سے ڈرایا ہے جیسا کہ زیر باب آیت میں بیان کیا گیا ہے ۔ وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبِيرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُواهُمْ يَغْفِرُونَ (الشوری: ۳۸) یعنی وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے بچتے ہیں اور جب وہ غصہ میں ہوتے ہیں تو وہ چشم پوشی کرتے ہوئے معاف کرتے ہیں۔ فرمایا: الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران: ۱۳۵) یعنی جو آسائش اور تنگی میں خرچ کرتے ہیں اور خاص کر وہ غصے کو دباتے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرتے ہیں۔ اور اللہ اچھے کام کرنے والوں سے پیار رکھتا ہے۔