صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 534 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 534

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۳۴ ۷۸ - كتاب الأدب حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دو غصہ انسان میں پایا جاتا ہے اور یہ ایک طبعی امر ہے بعض جگہ اس کا نکالنا ضروری ہے اور بعض جگہ اس کا دبانا ضروری ہے جس طرح ایک گھوڑے کو لگام دی جاتی ہے اور وہ لگام اس کے سوار کے ہاتھ میں ہوتی ہے اسی طرح غصہ بھی انسان کے قابو میں ہونا چاہیئے اور اس کا اظہار صرف اس وقت ہونا چاہیے اس کا اظہار صرف اس رنگ میں ہونا چاہیئے اس کا اظہار صرف اس حد تک ہونا چاہیے جس کی اسلام نے اجازت دی ہے اور جہاں اس نے کہا ہے کہ غصہ کو رو کو وہاں ہمیں کا ظمین بن جانا چاہیے ہمیں غصہ کو روکنا چاہیے گویا اللہ تعالیٰ نے ایک نور یہاں بھی عطا کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ وہاں غصہ کا اظہار کرنا ہے اور یہاں اظہار نہیں کرنا اور یہ نور قرآن کریم کی ہدایت ہے اس کی روحانی تاثیرات ہیں جو انسان کو عقل اور فراست عطا کرتی ہیں۔“ (خطبات ناصر ، خطبہ جمعہ فرموده ۱۳ دسمبر ۱۹۶۸، جلد ۲ صفحه ۴۲۶، ۴۲۷) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: خلق محل پر مومن اور غیر محل پر کافر بنا دیتا ہے۔ میں پہلے کہہ چکاہوں کہ کوئی خُلق برا نہیں بلکہ بد استعمالی سے بُرے ہو جاتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غصہ کے متعلق آیا ہے کہ آپ سے کسی نے پوچھا کہ قبل از اسلام آپ بڑے غصہ در تھے۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ غصہ تو وہی ہے البتہ پہلے بے ٹھکانے چلتا تھا مگر اب ٹھکانے سے چلتا ہے۔ اسلام ہر ایک قوت کو اپنے محل پر استعمال کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ پس یہ کبھی کوشش مت کرو کہ تمہارے قومی جاتے رہیں بلکہ ان قوی کا صحیح استعمال سیکھو ۔ “ (احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۸۷) باب ٧٦ : الْحَذَرُ مِنَ الْغَضَبِ غصے سے بچنا لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ جو بڑے بڑے كَبِيرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَ إِذَا مَا غَضِبُوا گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے بچتے ہیں اور هُمْ يَغْفِرُونَ (الشورى: ۳۸) وَقَوْلِهِ جب وہ غصہ میں ہوتے ہیں تو وہ چشم پوشی کرتے