صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 534
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۳۴ -2A كتاب الأدب حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غصہ انسان میں پایا جاتا ہے اور یہ ایک طبعی امر ہے بعض جگہ اس کا نکالنا ضروری ہے اور بعض جگہ اس کا دبانا ضروری ہے جس طرح ایک گھوڑے کو لگام دی جاتی ہے اور وہ لگام اس کے سوار کے ہاتھ میں ہوتی ہے اسی طرح غصہ بھی انسان کے قابو میں ہونا چاہیئے اور اس کا اظہار صرف اس وقت ہونا چاہیئے اس کا اظہار صرف اس رنگ میں ہونا چاہیئے اس کا اظہار صرف اس حد تک ہونا چاہیئے جس کی اسلام نے اجازت دی ہے اور جہاں اس نے کہا ہے کہ غصہ کو رو کو وہاں ہمیں کا ظمین بن جانا چاہیئے ہمیں غصہ کو روکنا چاہیے گویا اللہ تعالیٰ نے ایک نور یہاں بھی عطا کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ وہاں غصہ کا اظہار کرنا ہے اور یہاں اظہار نہیں کرنا اور یہ نور قرآن کریم کی ہدایت ہے اس کی روحانی تاثیرات ہیں جو انسان کو عقل اور فراست عطا کرتی ہیں۔“ خطبات ناصر ، خطبه جمعه فرموده ۱۳ دسمبر ۱۹۶۸، جلد ۲ صفحه ۴۲۶، ۴۲۷) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: خلق محل پر مومن اور غیر محل پر کا فر بنادیتا ہے۔میں پہلے کہہ چکاہوں کہ کوئی خُلق بُرا نہیں بلکہ بد استعمالی سے بُرے ہو جاتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غصہ کے متعلق آیا ہے کہ آپ سے کسی نے پوچھا کہ قبل از اسلام آپ بڑے غصہ در تھے۔حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ غصہ تو وہی ہے البتہ پہلے بے ٹھکانے چلتا تھا مگر اب ٹھکانے سے چلتا ہے۔اسلام ہر ایک قوت کو اپنے محل پر استعمال کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔پس یہ بھی کوشش مت کرو کہ تمہارے قویٰ جاتے رہیں بلکہ ان قوی کا صحیح استعمال سیکھو۔“ (احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۸۷) بَابِ ٧٦: الْحَذَرُ مِنَ الْغَضَبِ غصے سے بچنا لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى: وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ جو بڑے بڑے كَبَّرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوا گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے بچتے ہیں اور هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوری: ۳۸) وَقَوْلِهِ جب وہ غصہ میں ہوتے ہیں تو وہ چشم پوشی کرتے