صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 533 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 533

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۳۳ ۷۸ - كتاب الأدب بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ نے بُر بن سعید سے، بُسر نے حضرت زید بن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللهِ ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَيْرَةً مُخَصَّفَةً کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی چھال یا أَوْ حَصِيرًا فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله بوریا سے ایک چھوٹا سا حجرہ بنا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر جاکر اس میں نماز پڑھنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهَا فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ لگے۔ (حضرت زید کہتے تھے : یہ دیکھ کر لوگ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ ثُم بھی آپ کے پاس یکے بعد دیگرے آکر آپ کے جَاءُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ پیچھے آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ پھر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ فَلَمْ وہ ایک رات آئے اور وقت پر پہنچے اور رسول اللہ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ صلى الله علیہ وسلم نے ان کے پاس آنے میں دیر وَحَصَبُوا الْبَابَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مُغْضَبًا کردی۔ آپؐ ان کے پاس باہر نہیں آئے تو انہوں فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اونچی آواز سے بولنا شروع کیا اور دروازے پر وَسَلَّمَ مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى کنکریاں مارنے لگے۔ آپ ان کے پاس ناراضی ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ فَعَلَيْكُمْ میں باہر آئے اور آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: تمہارا یہ وطیرہ ایسا ہو گیا ہے کہ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ میں سمجھتا ہوں کہ تم پر فرض ہو جائے گا۔ اس لئے الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ۔ تم اس نماز کو اپنے گھروں میں ہی پڑھا کرو کیونکہ اطرافه: ۷۳۱، ۷۲۹۰ آدمی کی بہتر نماز وہی ہے جو گھر میں پڑھی جائے سوائے اس نماز کے جو فرض کی گئی ہے۔ تشريح : مَا يَجُوزُ مِنَ الْغَضَبِ وَالشَّدَّةِ لأمر الله: ناراض ہوتا اور سخت کرنا جو جائز ہے اس لئے کہ اللہ حکم دیتا۔ دیتا ہے۔ امام بخاری نے زیر باب قرآن کریم کی آیت جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمُ (التحریم: ۱۰) اور پانچ روایات میں غصہ کے جواز اور اللہ تعالیٰ کے فرمان وَاغْلُظ عَلَيْهِمْ سے غصہ کرنے کے حکم کو بیان کر کے یہ بتایا ہے کہ غصہ بھی اخلاق میں سے ایک خلق ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ بر محل ہو اور یہی شرط نرمی و دیگر اخلاق کے ساتھ ہے۔ قرآن کریم کی اصطلاح میں اسے عمل صالح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ا ترجمه حضرت خليفة المسيح ) رت خلیفة المسیح الرابع : کفار سے اور منافقین سے جہاد کر اور ان کے مقابلہ پر سختی کر۔“