صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 29
صحیح البخاری جلد ۱۴ قَاعِدًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامٌ۔أطرافه : ٠٦٨٨ ١١١٣، ١٢٣٦- ۲۹ ۷۵ کتاب المرضى ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا۔حمیدی کہتے تھے: حدیث منسوخ ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری نماز جو پڑھائی تو وہ آپ نے بیٹھ کر پڑھائی اور لوگ آپ کے پیچھے گھڑے تھے۔تشريح: إِذَا عَادَ مَرِيضًا فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصلی بہم جماعة : اگر کی بیمار کی عیادت کو جائے اور نماز کا وقت ہو گیا ہو پھر وہ ان کو باجماعت نماز پڑھائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالی نماز کے متعلق فرماتا ہے: حفظوا عَلَى الصَّلَواتِ وَالصَّلوة الوسطى وَقُومُوا لِلهِ قنِتِينَ) (البقرۃ: ۲۳۹) تم (تمام) نمازوں کا اور (خصوصاً) درمیانی نماز کا پورا خیال رکھو۔اور اللہ کے لیے فرماں بردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔قُومُوا لِلَّهِ قُنِتِينَ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز کے متعلق اصل حکم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا ہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بیماری و دیگر استثنائی صورتوں کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی راہنمائی فرمائی۔اس لیے آپ نے بیماری کے دوران بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ایک دفعہ آپ نے صحابہ کو جو آپ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، فرمایا کہ جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔مگر آپ نے اپنی آخری بیماری میں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور صحابہ نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔جس سے ہمیشہ کے لیے یہ راہنمائی بھی مل گئی کہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مختلف عمل ملتے ہوں تو ان میں آخری عمل قابل ترجیح ہے۔اس واقعہ سے جہاں اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک باجماعت نماز کی کتنی بڑی اہمیت تھی کہ آپ نے بیماری میں بھی اس کا اہتمام فرمایا وہاں اس بات کا بھی علم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھنا کتنی اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے۔جس کا آپ نے اپنے آخری مرض میں بھی خیال رکھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھنا بلکہ محض ایک رکعت نماز نصیب ہو جانا بڑی سعادت ہے کہ قرآن کریم جنگوں کے پر خطر حالات میں جبکہ دشمن سامنے صف آراء ہو آپ کی امامت میں نماز پڑھنے کی تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَاقَتَ لَهُمُ الصَّلوةَ فَلْتَقُم طَائِفَةٌ مِنْهُم مَّعَكَ وَ لْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِنْ وَرَابِكُمْ وَلَتَأْتِ طَائِفَةً أُخْرَى لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ وَ ليَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ وَذَا الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَ امْتِعَتِكُمْ فَيَبِيلُوْنَ عَلَيْكُمْ ج ميلَةٌ وَاحِدَةًا اور جب تو (خود) ان میں ہو اور تو انہیں نماز پڑھائے تو ان میں سے ایک حصہ جماعت ( کو چاہیے کہ) تیرے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنے ہتھیار لے لیں۔پھر جب وہ سجدہ کر لیں تو وہ تمہارے پیچھے (حفاظت کے لئے) کھڑے ہو جائیں، پھر ایک اور حصہ جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (آگے ) آجائے اور تیرے ساتھ نماز پڑھے اور وہ بھی اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لئے رہیں۔جو لوگ کافر ہیں وہ چاہتے ہیں کہ کاش تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے