صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 530
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۳۰ ۷۸ - كتاب الأدب تھے اور حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما اور ان کے گروہ کے لوگ معراج اور رویت باری کے بارے میں دوسرے صحابہ سے بکلی مخالف تھے مگر کوئی کسی کو کافر نہیں کہتا تھا مگر یہ زمانہ ایک ایسا زمانہ آیا کہ مولویوں نے اپنے بھائی مسلمان کو کافر کہہ دینا اور ہمیشہ کے لئے جہنمی قرار دے دینا ایک ایسی سہل بات سمجھ لی کہ جیسے کوئی پانی کا گھونہ گھونٹ پی لے۔“ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۵۸ تا۲۶۰) بَاب ٧٥ : مَا يَجُوزُ مِنَ الْغَضَبِ وَالشَّدَّةِ لِأَمْرِ اللَّهِ ناراض ہونا اور سختی کرنا جو جائز ہے اس لئے کہ اللہ حکم دیتا ہے وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جَاهِدِ الْكُفَّار یعنی کفار الْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ (التحریم: ۱۰) سے اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان کے مقابل پر مضبوط رہو۔ ٦١٠٩ : حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ ۶۱۰۹ : يره بن صفوان نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابراہیم بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ہے ، زہری نے قاسم (بن محمد ) سے، قاسم نے قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهُ صَلَّى حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ قِرَامٌ فِيهِ وسلم تشریف لائے اور گھر میں ایک پر وہ تھا جس میں صُوَرٌ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ کچھ صورتیں تھیں۔ انہیں دیکھ کر آپ کا چہرہ متغیر فَهَتَكَهُ وَقَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ ہو گیا۔ پھر آپ نے پردہ کو لیا اور اس کو پھاڑ ڈالا۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ وہ بیان کرتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُصَوِّرُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ قیامت کے روز جن لوگوں کو سخت سزادی جائے گی اُن میں سے وہ بھی ہیں جو یہ صورتیں بناتے ہیں۔ أطرافه: ٢٤٧٩، ٥٩٥٤، ٥٩٥٥۔ ٦١١٠ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۶۱۱۰ : مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی بن سعید عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنَا (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن ابی