صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 529
صحیح البخاری جلد ۱۴ فَلْيَصْمُتْ۔۵۲۹ ۷۸ - كتاب الأدب منع فرمایا ہے۔جس نے قسم کھانی ہو تو چاہیئے کہ وہ اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔أطرافه: ٢٦٧٩، ٣٨٣٦، ٦٦٤٦ ٦٦٤٧، ٦٦٤٨، ٧٤٠١- تشريح۔مَنْ لَّمْ يَرَ إِكْفَارَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ مُتَأَوّلًا أَوْ جَاهِلًا: جس نے اس شخص کو کافر نہ ٹھہرایا جس نے کسی کو معقول وجہ سے یا نادانستہ کا فر کہا۔آج کے زمانہ کے معاندین احمد بیت دیگر باتوں کی طرح یہ بھی خلاف واقعہ اور خلاف حقیقت بات بیان کرتے ہیں کہ بانی جماعت احمدیہ نے دیگر مسلمانوں کو پہلے کافر کہا جس کے رد عمل میں مسلمان علماء نے آپ کے خلاف کفر کے فتوے لگائے۔ان کی یہ بات تاریخی واقعات اور حقائق کے منافی سراسر جھوٹ، کذب بیانی اور افتراء ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ بانی جماعت احمدیہ حضرت اقدس مسیح موعود علیه السلام کم از کم تین سال تک ان دو سو علماء اور ان کے متبعین کو سمجھاتے رہے جنہوں نے آپ پر کفر کا فتوی لگایا تھا کہ تم اس کھیل میں نہ پڑو ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے مطابق کہ جو کسی مسلمان کو کافر کہے وہ کفر اسی پر الٹ جائے گا مگر وہ باز نہ آئے اور یوں اپنے ہی فتویٰ کفر کو اپنے اوپر الٹالیا اور وہ تھوک جو اس چاند چہرہ پر پھینکا انہی کے مونہوں پر جا پڑا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: جزئیات کے اختلاف کی وجہ سے کسی کو جھٹ پٹ کافر کہہ دینا اور ہمیشہ کے جہنم کا سزاوار اس کو ٹھہرانا یہ امر در حقیقت عند اللہ کوئی سہل اور معمولی بات نہیں بلکہ بہت ہی بڑا ہے اور جائے تعجب ہے کہ ایک شخص کلمہ گو ہو اور اہل قبلہ اور موحد اور اللہ اور رسول کو ماننے والا اور ان سے سچی محبت رکھنے والا اور قرآن پر ایمان لانے والا ہو اور پھر کسی جزئی اختلاف کی وجہ سے وہ ایسا کافر ٹھہر جائے کہ یہود نصاریٰ کی طرح بلکہ ان سے بھی بدتر شمار ہو۔وہ نہ صرف کا فر بلکہ اس کا نام اکفر رکھا جائے یعنی ہمیشہ کی جہنم سے بھی اس کی سزا کچھ زیادہ ہو۔اہل علم جانتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں بڑے بڑے اختلاف تھے اور ان میں سے کوئی بھی اختلاف سے بچ نہیں سکا۔نہ صدیق نہ فاروق نہ دوسرا کوئی صحابی بلکہ مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ باوجود اپنی اس جلالت و شان کے جو علماء میں مسلم ہے دینی امور میں تمام جماعت صحابہ سے پچاس مسئلہ میں مخالف تھے اور یہ مخالفت اس کمال تک پہنچ گئی تھی کہ بعض ایسے امور کو وہ حلال جانتے تھے جن کو دوسرے صحابہ حرام قطعی بلکہ صریح فسق سمجھتے