صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 526 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 526

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۲۶ ۷۸ - كتاب الأدب طرف منہ کرے اور ہمارا ذبح کردہ جانور کھائے۔پس یہ وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ کی امان ہے اور اُس کے رسول کی امان ہے۔پس اس تعریف پر پورا اترنے والا مسلمان ہے۔جو اسے کافر کہے گا وہ کفر اسی پر الٹ جائے گا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم تو اس ایمان پر قائم ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہا جا سکتا۔لیکن صرف اتنا ہی نہیں فرمایا بلکہ کچھ اور بھی فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ جو کسی کلمہ گو کو کافر کہے گا وہ کفر الٹا اس پر پڑے گا اور وہ کافر بن جائے گا۔انسان کا کام کا فر بنانا نہیں نہ دیندار بنانا ہے قرآن کریم نے اس کی وضاحت کی ہے۔جسے اللہ تعالیٰ ہلاک کرنا چاہے تم اسے جا کر کیسے ہدایت دے دو گے۔قرآن کریم کہتا ہے ہدایت بھی اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے اور کفر کا فتویٰ بھی اللہ تعالیٰ کا چلتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے۔کسی کلمہ گو کو کافر کہنے کا کسی کو حق نہیں ہے لیکن جو کلمہ گو کو کافر کہتا ہے اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فر کہہ چکے ہیں ہمیں کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق خود ہی کا فربن گیا۔“ خطبات ناصر ، خطبه جمعه فرموده ۴، ستمبر ۱۹۷۰ء، جلد ۳ صفحه ۳۲۱ تا ۳۲۳) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " اس زمانہ کے اکثر ملا تکفیر میں مستعمل ہیں اور قبل اس کے جو کسی قول کی تہہ تک پہنچیں اس کے قائل کو کافر ٹھہرا دیتے ہیں۔علماء کا کسی کو کافر ٹھہر انا کوئی نئی بات نہیں۔یہ عادت تو اس گروہ میں خاص کر اس زمانہ میں بہت ترقی کر گئی ہے اور ایک فرقہ دوسرے فرقہ کو دین سے خارج کر رہا ہے لیکن اگر افسوس ہے تو صرف اس قدر کہ ایسے فتوے صرف اجتہادی غلطی کی ہی وجہ سے قابل الزام نہیں بلکہ بات بات میں خلاف امانت اور تقویٰ عمل میں آتا ہے اور نفسانی حسدوں کو در پردہ مد نظر رکھ کر دینی مسائل کے پیرایہ میں اس کا اظہار ہوتا ہے۔کیا تعجب کا مقام نہیں کہ ایسے نازک مسئلہ میں کافر قرار دینے میں اس قدر منہ زوری دکھلائی جائے کہ ایک شخص بار بار خود اپنے اسلام کا اقرار کرتا ہے اور ان تہمتوں سے اپنی بریت ظاہر کر رہا ہے جو موجب کفر ٹھہرائی گئی ہیں مگر پھر بھی اس کو کافر ٹھہرایا جاتا ہے اور لوگوں کو