صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 525
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۲۵ ۷۸ - كتاب الأدب حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي وہیب نے ہمیں بتایا۔ ایوب (سختیانی) نے ہم سے قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الصَّحَاكِ عَنِ بیان کیا۔ ایوب نے ابو قلابہ سے، ابو قلابہ نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حضرت ثابت بن ضحاک سے ، حضرت ثابت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی كَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ جھوٹی قسم کھائی۔ پھر وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَلَعْنُ کہا۔ اور جس نے اپنے تئیں کسی چیز سے مار ڈالا تو الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ اس کو جہنم کی آگ میں اس چیز سے سزادی جائے گی۔ اور مؤمن پر لعنت کرنا ایسا ہی ہے جیسا اس فَهُوَ كَقَتْلِهِ۔ کو : کو مار ڈالنا۔ اور جس نے مؤمن پر کفر کا الزام لگایا۔ یہ بھی ایسا ہی ہے جیسا اس نے اُسے قتل کیا۔ أطرافه: ١٣٦٣ ، ٤١٧١ ، ٤٨٤٣، ٦٠٤٧، ٦٦٥٢۔ تشریح : مَنْ أَكْفَرَ أَخَاهُ بِغَيْرِ تَأْوِيل: جس نے اپنے بھائی کو بغیر کس وجہ کے کافر ٹھہرایا مسلمان کی جو تعریف اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے جو شخص اس پر پورا اترتا ہے اسے کافر کہنے کا کسی کو کوئی حق نہیں۔ فرماتا ہے : قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُم (الحجرات: ۱۵) کے باوجود یہ کہ ایمان ان کے دلوں میں نہیں مگر ان کے اسلام کو قبول کیا گیا ہے۔ قرآن کریم بعض مواقع پر ایمان کو اسلام کے معنوں میں استعمال کرتا ہے اور ایک مومن یا مسلم کی یہ تعریف بیان کرتا ہے کہ لا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء: ۹۵) کہ جو تمہیں السلام علیکم کہے اُسے یہ نہ کہو کہ وہ مومن نہیں۔ یہاں مومن کا لفظ مسلم کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی تعریف یہ فرمائی : من تلفظ بالإسلام کے یعنی جن لوگوں نے اسلام کا زبان سے اقرار کیا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّهُ رَسُولِهِ - - لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ ہے یعنی جو شخص ہماری نماز کی طرح نماز پڑھےا ھے اور ہمارے قبلہ کی ردوو ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع الرابع : : " ” بادیہ بادیہ نشین تعین کہتے کہتے ہیں ہیں کہ کہ ہم ایمان لے آئے۔ تو کہہ دے کہ تم ایمان نو نہیں لائے لیکن صرف اتنا کہا کرو کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں جبکہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔“ (صحيح البخاري، كتابُ الجِهَادِ وَ السّيرِ ، بَابُ كِتَابَةِ الإِمَامِ النَّاس، روایت نمبر ۳۰۶۰) (صحیح البخاری، كِتَابُ الصَّلاةِ، بَابُ فَضْلِ اسْتِقْبَالِ القِبْلَةِ، روایت نمبر ۳۹۱)