صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 525 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 525

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۲۵ - كتاب الأدب حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي وہیب نے ہمیں بتایا۔ایوب (سختیانی) نے ہم سے قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الصَّحَاكِ عَنِ بیان کیا۔ایوب نے ابو قلابہ سے، ابوقلابہ نے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حضرت ثابت بن ضحاک سے ، حضرت ثابت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی كَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ جھوٹی قسم کھائی۔پھر وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَلَعْنُ کہا۔اور جس نے اپنے تئیں کسی چیز سے مار ڈالا تو الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ اس کو جہنم کی آگ میں اس چیز سے سزادی جائے گی۔اور مؤمن پر لعنت کرنا ایسا ہی ہے جیسا اس کو مار ڈالنا۔اور جس نے مؤمن یہ کفر کا الزام لگایا۔یہ بھی ایسا ہی ہے جیسا اس نے اُسے قتل کیا۔فَهُوَ كَقَتْلِهِ۔أطرافه: ۱۳۶۳ ، ٤۱۷۱ ، ٤٨٤٣، ٦٠٤٧، ٦٦٥٢- شریح : مَنْ أَكْفَرَ أَخَاهُ بِغَيْرِ تَأْوِيل: جس نے اپنے بھائی کو بغیر کسی وجہ کے کافر ٹھہرایا۔مسلمان کی جو تعریف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے جو شخص اس پر پورا اترتا ہے اسے کافر کہنے کا کسی کو کوئی حق نہیں۔فرماتا ہے: قَالَتِ الْأَعْرَابُ أَمَنَا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ في قُلُوبِكُمُ (الحجرات: ۱۵) با وجود یہ کہ ایمان ان کے دلوں میں نہیں مگر ان کے اسلام کو قبول کیا گیا ہے۔قرآن کریم بعض مواقع پر ایمان کو اسلام کے معنوں میں استعمال کرتا ہے اور ایک مومن یا مسلم کی یہ تعریف بیان کرتا ہے کہ لا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء:۹۵) کہ جو تمہیں السلام علیکم کہے اُسے یہ نہ کہو کہ وہ مومن نہیں۔یہاں مومن کا لفظ مسلم کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی تعریف یہ فرمائی : من تلفظ بِالإِسلام۔کے یعنی جن لوگوں نے اسلام کا زبان سے اقرار کیا ہے۔دوسری جگہ فرمایا: مَنْ صَلَّى صَلاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَنِقَةُ رَسُولِهِ - سے یعنی جو شخص ہماری نماز کی طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " بادیہ نشین کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔تو کہہ دے کہ تم ایمان نہیں لائے لیکن صرف اتنا کہا کرو کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں جبکہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔“ (صحيح البخاري، كتاب الجِهَادِ وَ السّيرِ ، بَابُ كِتَابَةِ الإِمَامِ النَّاس، روایت نمبر ۳۰۶۰) (صحیح البخاری، کتاب الصَّلاةِ، بَابُ فَضْلِ استقبالِ القِبْلَة، روایت نمبر ۳۹۱)