صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 28
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۸ ۷۵ کتاب المرضى وہ بیمار تھا حضرت خلیفہ اول کے پاس بھیجاتا آپ اس کی بیماری کا علاج بھی کریں اور کچھ تبلیغ بھی کریں لیکن وہ لڑکا بھی بڑا پختہ تھا، وہ کلمہ پڑھنے سے بچنے کی خاطر ایک رات بھاگ کر چلا گیا۔رات کو ہی اس کی ماں کو بھی پتہ چل گیا وہ بھی اس کے پیچھے دوڑ پڑی اور بٹالہ کے نزدیک سے اسے پکڑ کر پھر واپس لائی۔آخر خدا نے اس کی سنی اس کا بیٹا ایمان لے آیا۔بعد میں گو وہ فوت بھی جلد ہو گیا مگر اس عورت نے کہا اب میرے دل کو ٹھنڈک پڑ گئی ہے موت سے پہلے اس نے کلمہ تو پڑھ لیا ہے۔“ تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو، انوار العلوم جلد ۵ صفحہ ۲۱۹) بَاب ١٢ : إِذَا عَادَ مَرِيضًا فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى بِهِمْ جَمَاعَةٌ اگر کسی بیمار کی عیادت کو جائے اور نماز کا وقت ہو گیا ہو پھر وہ ان کو باجماعت نماز پڑھائے ٥٦٥٨: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۵۶۵۸ محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحی حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ ( بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ہشام بن عروہ) أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله نے ہم سے بیان کیا۔اُنہوں نے کہا میرے باپ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے مجھے بتایا۔اُنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ يَعُودُونَهُ فِي مَرَضِهِ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا فَجَعَلُوا يُصَلُّونَ لوگ آپ کی بیماری میں آپ کی عیادت کرنے کے قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ اجْلِسُوا فَلَمَّا لئے آئے اور آپ نے ان کو بیٹھ کر نماز پڑھائی اور فَرَغَ قَالَ إِنَّ الْإِمَامَ لَيُؤْتَمُّ بِهِ فَإِذَا وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔آپ نے ان کو رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِنْ اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔جب آپ نماز سے فارغ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا قَالَ ہوئے تو آپ نے فرمایا: امام تو اس لئے ہوتا ہے کہ أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ هَذَا اس کی پیروی کی جائے سو جب وہ رکوع کرے تم الْحَدِيثُ مَنْسُوخٌ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى بھی رکوع کرو، جب وہ سر اُٹھائے تم بھی سر اُٹھاؤ، اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ مَا صَلَّى صَلَّی اگر وہ بیٹھے ہوئے نماز پڑھے تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔