صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 523 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 523

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۲۳ ۷۸ - كتاب الأدب أَشَدَّ حَيَاءٌ مِّنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا فَإِذَا مَوْلَى أَنَسٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عبد اللہ سے جو کہ حضرت انس کے غلام ابو عتبہ کے قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بیٹے تھے سنا۔عبد اللہ نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرم کیا کرتے تھے جو اپنے پر دے میں رہتی ہے۔جب آپ کسی ایسی چیز کو دیکھتے کہ آپ اس سے نفرت کرتے تو ہم یہ (نفرت) آپ کے چہرے سے پہچان لیتے۔رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ۔اطرافه: ٣٥٦٢، ٦١١٩ - تشریح : مَنْ لَّمْ يُوَاجِهِ النَّاسَ بِالْعِتَاب: جو ناراضی کے اظہار کے وقت لوگوں سے مخاطب نہ ہو۔علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ یہ باب لوگوں پر غصہ کے موقع پر حیا کرتے ہوئے اُن کی طرف متوجہ نہ ہونے کے بارے میں ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۵۶) روایت نمبر ۶۱۰ کو امام مسلم نے ابو معاویہ کی سند سے نقل کیا ہے۔اس میں فَغَضِبَ حَتَّى بَات الْغَضَبُ فِي وَجْهِہ کے الفاظ زائد ہیں۔لے یعنی بعض لوگوں کا عمل آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی ناگوار گزرا کہ ناراضی آپ کے چہرے سے عیاں تھی۔اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطاب فرمانا آیا عنوانِ باب سے بے ربط اور متناقض تو نہیں؟ اس کا جواب علامہ ابن بطال نے یہ دیا ہے کہ عنوانِ باب سے یہ مراد نہیں کہ کسی دینی حرمت کی ہتک و توہین کے موقع پر غضب کا اظہار نہ کیا جائے۔یہاں صرف یہ مقصود ہے کہ اپنے نفس اور اپنی ذات کے لیے غصہ اور غضب کے تابع نہ ہو جائے۔ایسے موقع پر صبر اور برداشت کا نمونہ دکھانے کا ہی اسوہ قابل تقلید ہے۔نیز مُوَاجَهَةٌ سے یہاں تعیین و تخصیص کے ساتھ متوجہ ہونا مراد ہے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا تعین تمام لوگوں سے عمومی طور پر خطاب فرمایا۔اس لیے حدیث اور عنوان کے مابین تناقض نہیں ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۵۷۷۱۵۶) ( فتح الباری جزء ۱۰ صفحه ۶۳۰ ، ۶۳۱) حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قوت برداشت جو آپ کے اندر نظر آتی ہے یہ ایک ایسی بے مثال چیز ہے جس کا نمونہ ہمیں اور کہیں نظر نہیں آتا۔آپ بیشک نصیحت بھی کرتے ، لوگوں کو اُن کی برائیوں سے منع بھی فرماتے اور ناراضگی کے موقع پر ناراضگی کا بھی اظہار فرماتے مگر طبیعت آپ کے قابو سے کبھی باہر نہیں ہوتی تھی۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ الانشراح، زیر آیت اَلَم نَشرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ، جلد ۹ صفحه ۱۳۶) (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب عِلمِهِ بِاللهِ تَعَالَى وَشِدَّةِ خَشْيَتِهِ)