صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 521 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 521

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۲۱ ۷۸ - كتاب الأدب مختلف حالات میں اس کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔ أَمَّا فِي الْمُحَارَبَةِ فَشُجَاعَةٌ اگر لڑائی میں انسان استقامت سے کام لے اور مشکلات سے نہ گھبرائے تو اُسے شجاعت کہتے ہیں۔ وَفِي امْسَاكِ النَّفْسِ عَنِ الْفُضُولِ أَي عَنْ طَلْبٍ مَا يَفْضَلُ عَنْ قَوَامِ الْمَعِيشَةِ فَقَنَاعَةُ وَعِقَةُ اور اگر ضروریات زندگی سے زائد چیزوں کے متعلق انسان اپنی خواہشات کو ترک کر دے اور نفس کو روک لے تو اسے قناعت اور عفت کہتے ہیں۔ چونکہ صبر کے اصل معنی رُکنے کے ہوتے ہیں اس لئے محققین لغت نے لکھا ہے کہ الصَّبْرُ صَبْرَانِ، صَبْرٌ عَلَى مَا تَهْوِي وَصَبْرٌ عَلَى مَا تَكْرَهُ یعنی صبر کی دو قسمیں ہیں۔ جس چیز کی انسان کو خواہش ہو اُس سے باز رہنا بھی صبر کہلاتا ہے اور جس چیز کو نا پسند کرتا ہو لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ آجائے اُس پر شکوہ نہ کرنا بھی صبر کہلاتا ہے۔۔۔۔ قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے صبر اصل میں تین قسم کا ہوتا ہے۔ پہلا صبر تو یہ ہے کہ انسان جزع فزع سے بچے۔ جیسے قرآن کریم میں آتا ہے: وَاصْبِرُ على مَا أَصَابَكَ (لقمان: ۱۸) مجھے جو کچھ تکلیف پہنچے اُس پر تو صبر سے کام لے یعنی جزع فزع نہ کر۔ دوسرے نیک باتوں پر اپنے آپ کو روک رکھنا یعنی نیکی کو مضبوط پکڑ لینا۔ ان معنوں میں یہ لفظ اس آیت میں استعمال ہوا ہے: فَاصْبِرُ لِحُكْمِ رَبَّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ أَثِمًا أَوْ كَفُورًا (الدھر: ۲۵) یعنی اپنے رب کے حکم پر قائم رہ اور انسانوں میں سے گنہگار اور ناشکر گزار کی اطاعت نہ کر۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس قدر احکام قرب الہی کے حصول کے لئے دیئے گئے ہیں اُن پر استقلال سے قائم رہنا اور اپنے قدم کو پیچھے نہ ہٹانا بھی صبر کہلاتا ہے۔ تیسرے معنے اس کے بدی سے رُکے رہنے کے ہیں۔ ان معنوں میں یہ لفظ اس آیت میں استعمال ہوا ہے کہ وَ لَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لهم والله غفور رحيم ) رحِيمُ (الحجرات: ۶) یعنی اگر وہ تجھے بلانے لر وہ مجھے بلانے کے لئے گناہ سے بہت باز رہتے اور اس وقت تک انتظار کرتے جب تک کہ تو باہر نکلتا تو یہ اُن کے لئے ت اچھا ہوتا مگر اب بھی وہ اصلاح کر لیں تو بہتر ہے اور اللہ تع تعالیٰ بہت بخشنے والا