صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 520 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 520

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۲۰ ۷۸ - كتاب الأدب انتقامی کاروائی نہیں کی بلکہ اپنے متبعین اور عشاق کو بھی صبر کا نمونہ دکھانے کے لئے اپنا نمونہ اور اسوہ پیش فرمایا کہ دیکھو اگر میری ذات پر حملے ہوتے ہیں تو میں پہلا شخص نہیں ہوں۔موسیٰ پر بھی یہ حملے کئے گئے۔انہوں نے بھی صبر کیا، میں بھی صبر کرتا ہوں۔پس تم بھی اس نمونہ کو اختیار کرو اور صبر دکھاؤ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی سیرت کے اس پہلو ایک موقعہ پر بیان فرمایا کہ مَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ قَطار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی امر میں اپنے نفس کے لئے انتقام نہیں لیا۔دو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مبر ایک ایسا خلق ہے، اگر کسی میں پیدا ہو جائے یعنی اس طرح پیدا ہو جائے جو اس کا حق ہے تو انسان کی ذاتی زندگی بھی اور جماعتی زندگی میں بھی ایک انقلاب آ جاتا ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش اپنے اوپر نازل ہوتے دیکھتا ہے۔“ (خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۱۳ فروری ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۱۲۰) نیز فرمایا: صبر کرنے والوں کے لئے کتنی بڑی خوشخبری ہے کہ ہلکی سی بھی تکلیف پر صبر کرنے والے کے صبر کو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا، بغیر اجر دیئے نہیں جانے دیتا اور خطائیں اور غلطیاں معاف فرماتا ہے۔(خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۱۳ فروری ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۱۲۴) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ صبر کے معنی اور اس کی مختلف صورتیں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: صبر کے اصل معنے تو ڑ کنے کے ہیں۔مگر اس لفظ کے استعمال کے لحاظ سے اس کے مختلف معانی ہیں۔چنانچہ اس کے ایک معنے تَرْكُ الشَّكْوَى مِنْ أَلَمِ الْبَلْوَى لغير الله یعنی جب کوئی مصیبت اور ابتلاء و غیرہ انسان کو پہنچے اور اسے تکلیف ہو تو خدا تعالیٰ کے سوا دوسروں کے پاس اس کی شکایت نہ کرنا صبر کہلاتا ہے ، ہاں اگر وہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی بے کسی کی شکایت کرتا ہے تو یہ صبر کے منافی نہیں۔چنانچہ لغت کی کتاب اقرب الموارد میں لکھا ہے: إِذَا دَعَا اللهُ الْعَبْدُ فِي كَشْفِ الطُّيْرِ عَنْهُ لا يُقدح في صَبْرِه جب بندہ خدا تعالیٰ سے اپنی مصیبت کے دور کرنے کے لئے دعا کرتا ہے تو اس پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اس نے بے صبری دکھائی ہے۔کلیات ابی البقاء میں لکھا ہے کہ صبر انسان کی ایک اعلیٰ درجہ کی صفت ہے اور ا (صحيح البخارى، كتاب الأدب، باب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُ وا وَلَا تُعَشِيرُوا، روایت نمبر ۶۱۲۶)