صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 519
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۱۹ ۷۸ - كتاب الأدب ٦١٠٠ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا ۲۱۰۰: عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالَ سَمِعْتُ باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: شَقِيقًا يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللهِ قَسَمَ النَّبِيُّ میں نے شقیق سے سنا۔وہ کہتے تھے : حضرت عبد اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً كَبَعْضٍ (بن مسعودؓ ) نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مَا كَانَ يَقْسِمُ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ مال تقسیم کیا ویسے ہی جیسا کہ آپ تقسیم کیا کرتے وَاللَّهِ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ تھے تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم قُلْتُ أَمَّا لَأَقُولَنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ یہ تو ایسی تقسیم ہے کہ اس سے اللہ کی رضا مندی نہیں چاہی گئی۔میں نے کہا: میں تو یہ بات نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ عَل الام سے ضرور کہوں گا۔چنانچہ میں آپ کے فَسَارَرْتُهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ پاس آیا اور آپ اپنے صحابہ میں بیٹھے تھے۔میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ نے آپ سے چپکے سے یہ بات کہی۔نبی صلی اللہ وَغَضِبَ حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ عليہ وسلم کو یہ بات بہت شاق گزری اور آپ کا چہرہ أَخْبَرْتُهُ ثُمَّ قَالَ قَدْ أُوذِيَ مُوسَى متغیر ہو گیا اور رنجیدہ ہوئے۔آپ کو ایسا رنج پہنچا کہ میں نے آرزو کی کاش کہ میں نے آپ کو نہ بتایا بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ۔ہوتا۔پھر آپ نے فرمایا: موسیٰ کو بھی اس سے زیادہ ستایا گیا اور انہوں نے صبر کیا۔أطرافه: ۳۱٥۰، ۳٤٠٥ ۱۳۳۵، ۱۳۳۶ ، ٦٠٥۹، ٦٢٩١، ٦٣٣٦- شریح: الصَّبْرُ في الأَذَى : تكلف پر صبر کرنا۔زیر با روایات سے امام بخاری نے صبر کے اس پہلو کو اُجاگر کیا ہے کہ صبر کی یہ قسم کہ جب کوئی آپ کی ذات پر اور عزت اور شان پر حملہ کرے تو اس وقت صبر کا نمونہ دکھانا۔امام بخاری نے دو مثالیں پیش کی ہیں جن سے بڑھ کر کوئی مثال اور نمونہ پیش نہیں کیا جاسکتا۔اول اللہ تعالیٰ کی ذات کے صبر کا نمونہ ، کہ وہ فرماتا ہے: مجھے سب سے زیادہ بری بات یہ لگتی ہے کہ کوئی یہ کہے کہ میرا بیٹا ہے۔مگر اتنی کڑوی اور اتنی ناپاک اور غصہ دلانے والی بات سن کر بھی خداتعالی اپنا یہ نمونہ دکھاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو معاف فرماتا ہے، انہیں بیماریوں اور تکالیف سے صحت اور تندرستی دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔یہ ہے اعلیٰ ترین حوصلے اور صبر کی بات۔اور دوسری مثال امام بخاری نے خدا تعالیٰ کے مظہر اتم اور بروز کامل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور شان اور عزت پر حملہ کرنے والوں کے خلاف آپ نے کوئی