صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 518
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۱۸ ۷۸ - كتاب الأدب سکتا ہے جن پر نبوت کے بھی سارے کمالات ختم ہو گئے۔ آپ نے جو راہ اختیار کی وہ بہت ہی صحیح اور اقرب ہے ، اس راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ ایجاد کرنا، خواہ وہ بظاہر کتنی ہی خوش کن معلوم ہوتی ہو، میری رائے میں ہلاکت ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھ من الله سر پر ایسا ہی ظاہر کیا ہے۔ آنحضرت کئی ایم کی سچی اتباع سے خدا املتا ہے اور آپ کی اتباع کو چھوڑ کر خواہ کوئی ساری عمر ٹکریں مارتا رہے، گوہر مقصود اس کے ہاتھ نہیں آسکتا ۔ آنحضرت صلی اللہ علم کو اسی لئے اُسوہ حسنہ فرمایا: لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: ۲۲) آنحضرت صلی الہ وسلم کے نقش قدم پر چلو اور ایک ذرہ بھر بھی ادھر یا اُدھر ہونے کی کوشش نہ کرو۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۲۳۷،۲۳۶) ضا بَاب ۷۱ : الصَّبْرُ فِي الْأَذَى تکلیف پر صبر کرنا وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : إِنَّمَا يُوَفَّى الصُّبِرُونَ اور اللہ تعالی کا یہ فرمانا: إِنَّمَا يُوَفَّى الطيرُونَ ۔۔۔ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (الزمر: ۱۱) یعنی صبر کرنے والوں کو ہی ان کا اجر بغیر حساب کے بڑھ چڑھ کر دیا جائے گا۔ ٦٠٩٩ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۶۰۹۹ : مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی بن سعید بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے الْأَعْمَسُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ روایت کی، کہا: اعمش نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي نے سعید بن جبیر سے ، سعید نے ابو عبد الرحمن سلمی سے ، ابو عبد الرحمن نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ سے بڑھ کر کوئی أَوْ لَيْسَ شَيْءٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى بُری بات پر جسے اس نے سنا ہو صبر کرنے والا نہیں۔ سَمِعَهُ مِنَ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَدْعُونَ لَهُ وَلَدًا یہ (بری بات ) کہ وہ کہتے ہیں کہ اس کا ایک بیٹا ہے وَإِنَّهُ لَيُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ۔ طرفه: ۷۳۷۸ پھر بھی اس کے باوجود وہ ان کو تندرستی دیتا ہے اور ان کو رزق بھی دیتا ہے۔