صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 518 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 518

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۱۸ ۷۸ - كتاب الأدب سکتا ہے جن پر نبوت کے بھی سارے کمالات ختم ہو گئے۔آپ نے جو راہ اختیار کی وہ بہت ہی صحیح اور اقرب ہے ، اس راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ ایجاد کرنا، خواہ وہ بظاہر کتنی ہی خوش کن معلوم ہوتی ہو ، میری رائے میں ہلاکت ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر ایسا ہی ظاہر کیا ہے۔آنحضرت صلی علی کیم کی کچی اتباع سے خد املتا ہے اور آپ کی اتباع کو چھوڑ کر خواہ کوئی ساری عمر ٹکریں مارتا رہے، گوہر مقصود اس کے ہاتھ نہیں آسکتا۔آنحضرت لی لی نام کو اسی لئے اُسوہ حسنہ فرمایا: لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: ۲۲) آنحضرت صلی اللی کام کے نقش قدم پر چلو اور ایک ذرہ بھر بھی اِدھر یا اُدھر ہونے کی کوشش نہ کرو۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۲۳۷،۲۳۶) بَاب ۷۱: الصَّبْرُ فِي الْأَذَى تکلیف پر صبر کرنا وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى : إِنَّمَا يُوَ فى الطيرُونَ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: إِنَّمَا يُوَفَّى الصّبِرُونَ۔۔۔يُوَفَّى اَجرَهُم بِغَيْرِ حِسَابِ ( الزمر : ١١) یعنی صبر کرنے والوں کو ہی ان کا اجر بغیر حساب کے بڑھ چڑھ کر دیا جائے گا۔٦٠٩٩ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۶۰۹۹: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی بن سعید بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سفیان (ثوری) سے الْأَعْمَسُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ روایت کی، کہا: اعمش نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي نے سعید بن جبیر سے ، سعید نے ابوعبد الرحمن سلمی مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِي ہے ، ابوعبد الرحمن نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: اللہ سے بڑھ کر کوئی أَوْ لَيْسَ شَيْءٍ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَدْعُونَ لَهُ وَلَدًا وَإِنَّهُ لَيْعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ۔طرفه: ۷۳۷۸- بُری بات پر جسے اس نے سنا ہو صبر کرنے والا نہیں۔یہ بری بات ) کہ وہ کہتے ہیں کہ اس کا ایک بیٹا ہے پھر بھی اس کے باوجو د وہ ان کو تندرستی دیتا ہے اور ان کو رزق بھی دیتا ہے۔