صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 517
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۱۷ ۷۸ - كتاب الأدب وَسَمْتًا وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ سے سنا۔وہ کہتے تھے: لوگوں میں سے وضع قطع عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ حِينِ اور سیرت اور چال ڈھال میں جو شخص رسول اللہ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى أَنْ يُرْجِعَ إِلَيْهِ لَا عَلى الام سے زیادہ مشابہ ہے وہ ابن ام عبد (یعنی نَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ إِذَا خَلَا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود) ہی ہیں اس وقت سے کہ جب وہ اپنے گھر سے نکلتے ہیں اس وقت کہ وہ طرفه: ٣٧٦٢۔۔اپنے گھر کو لوٹتے ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ وہ اپنے گھر والوں میں جب تنہا ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں۔٦٠٩٨: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۶۰۹۸: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ مُخَارِقٍ قَالَ سَمِعْتُ طَارِقًا ہمیں بتایا۔انہوں نے مخارق (بن خلیفہ) سے قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ أَحْسَنَ روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت طارق الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ (بن) (شهاب) سے سنا۔انہوں نے کہا: حضرت هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔عبد الله بن مسعود) کہتے تھے : سب سے اچھا کلام اللہ کی کتاب ہے اور بہترین روش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روش ہے۔طرفه ۷۲۷۷- ریح : الهَدَائى الصالح: اچھے چال چلن کے متعلق۔لفظ الھدی کے معنی واضح کر کے بتا دینا، دکھا دینا اور آگے آگے چل کر پہنچا دیتا ہیں۔(اقرب الموارد - هدی) علامہ ابن اثیر نے ھدائی کے معنی سیرت، ہیئت اور طریقہ بیان کیے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحه ۱۵۴) عنوان باب اور زیر باب حدیث سے امام بخاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چال ڈھال، روش اور طرز سے، آپ کے حسن صورت اور حسن سیرت سے آپ کی شخصیت کا دلربا نقش پیش کر کے آپ کے رنگ میں رنگین اور صحبت سے فیض پانے والوں میں سے ایک مثال حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی دی ہے جو آپ کی حسین زندگی کا نہایت دلکش نمونہ ، بروز اور ظل" تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دو میں تمہیں کہتا ہوں کہ جو طریق آنحضرت صلی ہم نے اختیار نہیں کیا وہ محض فضول ہے۔آنحضرت مئی یکم سے بڑھ کر منعم علیہم کی راہ کا سا تجربہ کار اور کون ہو