صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 516
صحیح البخاری جلد ۱۴ فرمایا: ۵۱۶ - كتاب الأدب -2A اور اتقاء کے مدارج کامل طور پر کبھی حاصل نہیں ہو سکتے جب تک صادق کی معیت اور صحبت نہ ہو ، کیونکہ اس کی صحبت میں رہ کر وہ اس کے انفاس طیبہ، عقد ہمت اور توجہ سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔“ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۱۶۳) ” یہ فضل اور برکت صحبت میں رہنے سے ملتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ نبیٹھے۔آخر نتیجہ یہ ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله الله في اصحابی۔گویا صحابہ خدا کا روپ ہو گئے۔یہ درجہ ممکن نہ تھا کہ اُن کو ملتا اگر دُور ہی بیٹھے رہتے۔یہ بہت ضروری مسئلہ ہے۔خدا کا قرب ، بندگانِ خدا کا قرب ہے اور خدا تعالیٰ کا ارشاد كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة: ۱۱۹) اس پر شاہد ہے۔یہ ایک ستر ہے جس کو تھوڑے ہیں جو سمجھتے ہیں۔مامور من اللہ ایک ہی وقت میں ساری باتیں کبھی بیان نہیں کر سکتا، بلکہ وہ اپنے دوستوں کے امراض کی تشخیص کر کے حسب موقع اُن کی اصلاح بذریعہ وعظ و نصیحت کرتا رہتا ہے اور وقتا فوقتا وہ اُن کے امراض کا ازالہ کرتارہتا ہے۔اب جیسے آج میں ساری باتیں بیان نہیں کر سکتا۔ممکن ہے کہ بعض آدمی ایسے ہوں، جو آج ہی تقریر سُن کر چلے جاویں اور بعض باتیں اس میں اُن کے مذاق اور مرضی کے خلاف ہوں، تو وہ محروم گئے ، لیکن جو متواتر یہاں رہتا ہے۔وہ ساتھ ساتھ ایک تبدیلی کرتا جاتا ہے اور آخر اپنے مقصد کو پالیتا ہے۔“ (ملفوظات جلد اول، صفحه ۳۵۱) بَابِ ٧٠: الْهَدْيُ الصَّالِحُ اچھے چال چلن کے متعلق ٦٠٩٧: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۶۰۹۷: اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔قَالَ قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمُ انہوں نے کہا: میں نے ابو اسامہ سے پوچھا: کیا الْأَعْمَشِ سَمِعْتُ شَقِيقًا قَالَ سَمِعْتُ اعمش نے تم سے بیان کیا؟ میں نے شقیق سے سنا کہ حُذَيْفَةَ يَقُولُ إِنَّ أَشْبَهَ النَّاسِ دَلَّا انہوں نے کہا: میں نے حضرت حذیفہ بن یمان)