صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 515 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 515

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۱۵ بازوں کے ساتھ ہو جانا ایک کار اہم ہے اور بڑی بھاری قربانی۔“ - كتاب الأدب -2A ( حقائق الفرقان جلد ۲ صفحہ ۳۱۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: صحبت میں بڑا شرف ہے۔اس کی تاثیر کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچا ہی دیتی ہے۔کسی کے پاس اگر خوشبو ہو تو پاس والے کو بھی پہنچ ہی جاتی ہے۔اسی طرح پر صادقوں کی صحبت ایک روح صدق کی نفی کر دیتی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ گہری صحبت نبی اور صاحب نبی کو ایک کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے جو قرآن شریف میں كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبۃ: ۱۱۹) فرمایا ہے۔اور اسلام کی خوبیوں میں سے یہ ایک بے نظیر خوبی ہے کہ ہر زمانہ میں ایسے صادق موجود رہتے ہیں۔“ (ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۶۰۹) نیز فرمایا: اصلاح نفس کی ایک راہ اللہ تعالٰی نے یہ بتائی ہے: كُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ (التوبة: 119) یعنی جو لوگ قولی، فعلی، عملی اور حالی رنگ میں سچائی پر قائم ہیں ان کے ساتھ رہو۔اس سے پہلے فرمایا: يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ (التوبة: 119) یعنی ایمان والو! تقویٰ اللہ اختیار کرو۔اس سے یہ مراد ہے کہ پہلے ایمان ہو پھر سنت کے طور پر بدی کی جگہ کو چھوڑ دے اور صادقوں کی صحبت میں رہے صحبت کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جو اندر ہی اندر ہو تا چلا جاتا ہے۔پس اس سے کبھی بے خبر نہیں رہنا چاہیئے کہ صحبت میں بہت بڑی تاثیر ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصلاح نفس کے لیے کُونُوا مَعَ الصّدِقِین کا حکم دیا ہے۔جو شخص نیک صحبت میں جاتا ہے خواہ وہ مخالفت ہی کے رنگ میں ہو لیکن وہ صحبت اپنا اثر کئے بغیر نہ رہے گی اور ایک نہ ایک دن وہ اس مخالفت سے باز آجائے گا۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحه ۵۰۶،۵۰۵) فرمایا: شریعت کی کتابیں حقائق اور معارف کا ذخیرہ ہوتی ہیں۔لیکن حقائق اور معارف پر کبھی پوری اطلاع نہیں مل سکتی جب تک صادق کی صحبت اخلاص اور صدق سے اختیار نہ کی جاوے۔اسی لیے قرآن شریف فرماتا ہے : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ ( التوبة : ۱۱۹) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان