صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 514
صحیح البخاری جلد ۱۴ والد ۷۸ - كتاب الأدب نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ ابو سہیل نافع بن مالک بن ابی عامر سے ، ابو سہیل عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آيَةُ الْمُنَافِقِ ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ وسلم نے فرمایا: منافق کی نشانی تین باتیں ہیں۔ جب أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔ أطرافه: ٣٣، ٢٦٨٢، ٢٧٤٩ وہ بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ ٦٠٩٦ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۶۰۹۶: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ جریر نے ہمیں بتایا۔ ابور جاء (عمران) نے ہم سے سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بیان کیا۔ انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب رضی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي قَالَا الَّذِي رَأَيْتَهُ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے دو شخص دیکھے کہ وہ يُشَقُّ شِدْقَهُ فَكَذَّابٌ يَكْذِبُ میرے پاس آئے ہیں۔ انہوں نے کہا: وہ شخص بِالْكَذْبَةِ تُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ جس کو تم نے دیکھا کہ اس کے جہڑے چیرے جاتے ہیں تو وہ کذاب ہے جو کہ جھوٹی بات کہتا تھا جو اس سے نقل کی جاتی۔ یہاں تک کہ چاروں الْآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔ طرف پہنچ جاتی۔ اب اس کے ساتھ روز قیامت تک ایسا ہی کیا جاتا رہے گا۔ أطرافه: ٨٤٥، ۱۱٤٣، ۱۳۸۶، ۲۰۸۵، ۲۷۹۱، ۳۲۳۶، ٣٣٥٤، ٤٦٧٤، ٧٠٤٧۔ تشريح : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُا اتقوا الله : یعی اے لوگو جو ایمان لائ اللہ سے ڈرو۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: صدق عربی زبان میں ایسا لفظ ہے کہ ہر صحیح اور امر واقعہ پر بولا جاتا ہے۔ چور کو پکڑتے ہیں تو کہتے ہیں: الكذب الكذب عمدہ تلوار کو بھی صدق ہی کہتے ہیں۔ اخُوثِقَةٍ ، أَخُو صِدْقٍ۔ سچے علوم کے مطابق عمل درآمد کا نام ہے صدق۔ راست