صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 513
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۱۳ ۷۸ - كتاب الأدب مقابلے کا نہیں تھا۔یہ حسن صرف ایسا حسن نہیں تھا جو دور سے ہی حسین نظر آتا ہو کہ واسطہ پڑنے پر کچھ اور نکلے بلکہ اس حسین چہرے سے جب ملاقات کا موقع پیدا ہو تا تھا تو آپ کے اعلیٰ اخلاق، آپ کی نرم اور میٹھی زبان اس حسن کو چار چاند لگا دیا کرتے تھے اور حضرت ام معبد نے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کا بڑا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے کہ قریب سے دیکھنے سے انتہائی شیریں زبان اور عمدہ اخلاق والے تھے۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۲۵ فروری ۲۰۰۵ء، جلد ۳ صفحه ۱۱۲،۱۱۱) بَاب ٦٩: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ ( التوبة : ١٢٠) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اے لوگو! جو ایمان لائے اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ وَمَا يُنْهَى عَنِ الْكَذِبِ۔اور یہ کہ جھوٹ سے روکا جائے۔٦٠٩٤: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي :۶۰۹۴ عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور سے ، منصور وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبد اللہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، حضرت عبد اللہ إِنَّ الصَّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ فرمایا: سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی رہنمائی کرتی ہے اور آدمی سچ بولتے بولتے لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ صدیق ہو جاتا ہے اور جھوٹ بدکاری کی راہ دکھاتا ہے اور بدکاری دوزخ کی طرف لے جاتی لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَابًا ہے اور آدمی جھوٹ بولتے بولتے آخر اللہ کے الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ نزدیک بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔٦٠٩٥: حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ حَدَّثَنَا :۲۰۹۵ (محمد) ابن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي سُهَيْلِ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے