صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 27 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 27

صحیح البخاری جلد ۱۴ 22 ۲۷ ۷۵ کتاب المرضى دیکھ کر بے چین ہو جاتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ۴) شاید تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالے گا کہ وہ کیوں نہیں مومن ہوتے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بیان فرماتے ہیں: جذبات و احساسات کا رشتہ نہایت نازک ہوتا ہے اور فاتح اور غالب اقوام عموماً اس معاملہ میں بہت بے اعتنائی دکھاتی ہیں کیونکہ اس کا دارو مدار کسی قانون پر نہیں ہو تا بلکہ صرف اس روح پر ہوتا ہے جو قلوب میں مخفی ہوتی ہے اور جس پر کوئی مادی قانون حکومت نہیں کر سکتا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اپنے غلبہ اور حکومت کے زمانہ میں بھی غیر مسلموں کے احساسات کا بہت خیال رکھتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ مدینہ میں ایک یہودی نوجوان بیمار ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ اس کی عیادت کو تشریف لے گئے اور اس کی حالت کو نازک پا کر آپ نے اسے اسلام کی تبلیغ فرمائی۔وہ آپ کی تبلیغ سے متاثر ہوا مگر چونکہ اس کا باپ زندہ تھا اور اس وقت پاس ہی کھڑا تھا۔وہ ایک سوالی کی ہیئت بنا کر باپ کی طرف دیکھنے لگ گیا۔باپ نے کہا بیٹے ! (اگر تمہیں تسلی ہے تو بے شک) ابو القاسم ' کی بات مان لو “ لڑکے نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور فرمایا ” خدا کا شکر ہے کہ ایک روح آگ کے عذاب سے نجات پاگئی۔(سیرت خاتم النبیین صلى ال علم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے ، صفحہ ۷۴۱،۷۴۰) اسی طرح کا ایک واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق اور بروز کامل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بھی آتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک عورت اپنے بیمار بچہ کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آئی اور کہنے لگی میرا بچہ عیسائی ہو گیا ہے آپ اس کا علاج کریں لیکن جو بات وہ اصرار کے ساتھ کہتی تھی وہ یہ تھی کہ آپ اس سے ایک دفعہ کلمہ پڑھوا دیں پھر بے شک یہ مر جائے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس لڑکے کو چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت تھی۔بخاری ابواب الجنائز باب اذا اسلم الصبى