صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 512
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۱۲ ۷۸ - كتاب الأدب اور یوحنا دیکھ لیں۔آپ کو کہیں حضرت یسوع مسیح کے متعلق یہ نہیں ملے گا کہ وہ کبھی مسکرائے بھی تھے۔ہمارا یقین بلکہ ایمان ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے زمانہ کے انسانوں میں سب سے افضل اور اعلیٰ تھے اور ہر خُلق میں اپنے زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک کامل نمونہ تھے۔مسکراہٹ اور تقسم ان کے بنی اسرائیلی خدوخال کے خوبصورت اور حسین چہرہ کو چار چاند لگاتی اور سعید فطرت لوگوں کو اپنا گرویدہ کرتی تھی مگر ہم ان انجیوں کا ذکر کر رہے ہیں جو آج ان کی طرف منسوب ہوتی ہیں۔جو حضرت مسیح علیہ السلام کے اخلاق بیان کرنے میں اس قدر تہی دامن ہیں کہ ان میں کہیں ذکر نہیں کہ حضرت مسیح ہنتے اور مسکراتے بھی تھے۔مگر آنحضرت صلی علیکم کا یہ خلق بھی بڑی جامعیت سے روایات اور احادیث میں محفوظ ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: م علیٰ اخلاق کا اظہار چہروں سے بھی ہوتا ہے۔اگر کوئی ہر وقت اپنے چہرے پر بدمزگی طاری کئے رکھے اور سنجیدگی اور غصہ ظاہر ہو رہا ہو تو اندر جیسے مرضی اچھے اخلاق ہوں، دوسرا دیکھنے والا تو ایک دفعہ پریشان ہو جاتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی کیفیت بھی کیا ہوتی تھی۔روایات میں آتا ہے کہ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ ہوتی تھی۔حضرت عبد اللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ متبسم اور مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔لے پھر۔۔جریر بن عبد اللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ اسلام لانے کے زمانے سے (یعنی جب سے وہ مسلمان ہوئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کبھی بھی ملنے سے منع نہیں فرمایا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی انہیں دیکھتے تو مسکرا دیا کرتے تھے۔حضرت ام معبد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو یوں بیان کرتی ہیں کہ پ صلی اللہ علیہ وسلم دور سے دیکھنے میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ خوبصورت تھے اور قریب سے دیکھنے میں انتہائی شیریں زبان اور عمدہ اخلاق والے تھے۔دیکھ کے ہی پتہ لگ جاتا تھا کہ یہ شخص نرم خو ، نرم دل ہے۔جو حسن دور سے دیکھنے پر ہر ظاہری حسن کو ماند کر دیتا تھا۔کوئی بھی حسین چہرہ دیکھنے میں اس چہرے کے الشفاء لقاضي عياض، الباب الثاني الفصل السادس عشر، حسن عشرته) (صحيح البخاری، کتاب المناقب، باب ذکر جریر بن عبد الله البجلی) (الشفاء لقاضی عیاض، الباب الثاني الفصل الثالث ، نظافته )