صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 511
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۱۱ ۷۸ - كتاب الأدب بَعْضٍ ثُمَّ مُطِرُوا حَتَّى سَالَتْ مَثَاعِبُ اس وقت کوئی بادل نہیں دیکھتے تھے۔ آپ نے الْمَدِينَةِ فَمَا زَالَتْ إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ بارش کے لئے دعا کی۔ تو ایک کے بعد ایک بادل مَا تُقْلِعُ ثُمَّ قَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ اٹھنے لگے۔ پھر ان پر اتنی بارش برسی کہ مدینہ کے وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ نالے بہنے لگے اور آئندہ جمعہ تک بارش ہوتی فَقَالَ غَرِقْنَا فَادْعُ رَبَّكَ يَحْبِسْهَا عَنَّا رہی، بہتی نہ تھی۔ پھر وہی شخص یا اس کے علاوہ کوئی اور اُٹھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے مخاطب تھے۔ اس نے کہا: ہم تو ڈوب گئے اس فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَجَعَلَ السَّحَابُ لئے اپنے رب سے دعا مانگیں کہ وہ ہم سے اس يَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا بارش کو روک دے۔ (یہ سن کر) آپ نہیں يُمْطِرُ مَا حَوَالَيْنَا وَلَا يُمْطِرُ فِيْهَا شَيْءٌ پڑے۔ پھر دعا کی: اے اللہ ! (بارش) ہمارے ارد يُرِيهِمُ اللهُ كَرَامَةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گردبر سے اور ہم پر نہ برسے، دو دفعہ یا تین دفعہ وَسَلَّمَ وَإِجَابَةَ دَعْوَتِهِ۔ کہا۔ اتنے میں وہ بادل پھٹ کر مدینہ سے دائیں بائیں ہمارے آس پاس برسنے لگے اور مدینہ میں مطلق نہ برستے۔ اللہ ان کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آپ کی دعا کی قبولیت دکھلا رہا تھا۔ أطرافه: ۹۳۲، ۹۳۳، ۱۰۱۳، ۱۰۱، ۱۰۱۵، ۱۰۱۶، ۱۰۱۷، ۱۰۱۸، ۱۰۱۹، -٣٥، ٦٣٤٢۸۲ ،۱۰۳۳ ،۱۰۲۹ ،۱۰۲۱ تشریح : التَّبَشُمُ وَالضَّحِكُ: مسکرانا اور ہن۔ انسان کا چہرہ اس کے اخلاق کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی السلام نے فرمایا: کسی نیکی کو بھی معمولی نہ سمجھو۔ جب کسی سے ملو تو تمہارے چہرے پر مسکراہٹ ہو۔ آنحضرت صلی الہ ہم کو دیکھنے والے، آپ سے ملنے والے اور آپ کا حلیہ بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ ہم نے جب بھی آپ کو دیکھا، آپ کا چاند چہرہ مسکراتا اور دیکھتا دیکھا۔ بہت بڑے بڑے ابتلاء آپ پر آئے اور مصائب والم کے پہاڑ آپؐ پر ٹوٹے مگر وہ آپ کے حسین چہرے کی مسکراہٹ نہ چھین سکے۔ آپ سے محبت کرنے والوں اور عاشقانِ صادق نے آپ کی ایک ایک ادا کو بیان کیا ہے اور صدیوں سے یہ انمول خزانہ محفوظ چلا آتا ہے۔ احادیث اور کتب سیرت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہننے اور مسکرانے کے واقعات بکثرت بیان ہوئے ہیں۔ آج بڑی بڑی ترقی یافتہ قو میں اپنے انبیاء کی تعریف میں غلو کرنے میں اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ اپنے نبی کو خدا یا خدا کا بیٹا تک کہہ دیا۔ صرف اس ایک خلق یعنی مسکرانے اور تبسم کے حوالہ سے آپ چاروں انا جیل متی، مرقس ، لوقا