صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 511 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 511

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۱۱ ۷۸ - كتاب الأدب بَعْضٍ ثُمَّ مُطِرُوا حَتَّى سَالَتْ مَتَاعِبُ اس وقت کوئی بادل نہیں دیکھتے تھے۔آپ نے الْمَدِينَةِ فَمَا زَالَتْ إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ بارش کے لئے دعا کی۔تو ایک کے بعد ایک بادل مَا تُفْلِعُ ثُمَّ قَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ اٹھنے لگے۔پھر اُن پر اتنی بارش برسی کہ مدینہ کے وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ نالے بہنے لگے اور آئندہ جمعہ تک بارش ہوتی فَقَالَ غَرِقْنَا فَادْعُ رَبَّكَ يَحْبِسْهَا عَنَّا ری، ہٹتی نہ تھی۔پھر وہی شخص یا اس کے علاوہ کوئی اور اُٹھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا مخاطب تھے۔اس نے کہا: ہم تو ڈوب گئے اس عَلَيْنَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَجَعَلَ السَّحَابُ لئے اپنے رب سے دعا مانگیں کہ وہ ہم سے اس يَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا بارش کو روک دے۔(یہ سن کر) آپ ہنس يُمْطِرُ مَا حَوَالَيْنَا وَلَا يُمْطِرُ فِيْهَا شَيْءٌ پڑے۔پھر دعا کی: اے اللہ ! (بارش) ہمارے ارد يُرِيهِمُ اللهُ كَرَامَةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گردبر سے اور ہم پر نہ برسے، دو دفعہ یا تین دفعہ کہا۔اتنے میں وہ بادل پھٹ کر مدینہ سے دائیں بائیں ہمارے آس پاس برسنے لگے اور مدینہ میں مطلق نہ برستے۔اللہ ان کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آپ کی دعا کی قبولیت دکھلا رہا تھا۔وَسَلَّمَ وَإِجَابَةَ دَعْوَتِهِ۔،۱۰۱۹ ،۱۰۱۸ أطرافه: ۹۳۲، ۹۳۳، ۱۰۱۳، ،۱۰۱۷ ،۱۰۱۶ ،۱۰۱۰ ،۱۰۱ -٣٥ ٦٣٤٢۸۲ ،۱۰۳۳ ،۱۰۲۹ ،۱۰۲۱ شریح : التَّبَسُّمُ وَالضَّحِكُ: متر انا اور بہنا۔انسان کا چہرہ اس کے اخلاق کا آئینہ دار ہو تا ہے۔آنحضرت ما ﷺ نے فرمایا کسی نیکی کو بھی معمولی نہ سمجھو۔جب کسی سے ملو تو تمہارے چہرے پر مسکراہٹ ہو۔آنحضرت علی کیم کو دیکھنے والے، آپ سے ملنے والے اور آپ کا حلیہ بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ ہم نے جب بھی آپ کو دیکھا، آپ کا چاند چہرہ مسکراتا اور دمکتا دیکھا۔بہت بڑے بڑے ابتلاء آپ پر آئے اور مصائب والم کے پہاڑ آپ پر ٹوٹے مگر وہ آپ کے حسین چہرے کی مسکراہٹ نہ چھین سکے۔آپ سے محبت کرنے والوں اور عاشقانِ صادق نے آپ کی ایک ایک ادا کو بیان کیا ہے اور صدیوں سے یہ انمول خزانہ محفوظ چلا آتا ہے۔احادیث اور کتب سیرت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بننے اور مسکرانے کے واقعات بکثرت بیان ہوئے ہیں۔آج بڑی بڑی ترقی یافتہ قومیں اپنے انبیاء کی تعریف میں غلو کرنے میں اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ اپنے نبی کو خدا یا خدا کا بیٹا تک کہہ دیا۔صرف اس ایک خلق یعنی مسکرانے اور تبسم کے حوالہ سے آپ چاروں اناجیل متی، مرقس، لوقا