صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 508
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۰۸ ۷۸ - كتاب الأدب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ پوچھنے والا کہاں ہے ؟ تم یہ صدقہ میں دے دو۔نَوَاجِذُهُ قَالَ فَأَنْتُمْ إِذًا۔کہنے لگا: کیا اُس کو جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو ؟ اللہ کی قسم ! مدینہ کے دو پتھر پہلے میدانوں کے درمیان کوئی بھی گھر والے ایسے نہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہوں۔نبی صلی ا م اتنا ہے کہ آپ کے دانت ظاہر ہو گئے۔آپ نے فرمایا: تب تم ہی لے لو۔أطرافه: ١٩٣٦، ۱۹۳۷، ۲۶۰۰، ٥٣٦۸، 6164، 6709، 6710، ٦٧11، ٦٨٢١- ٦٠٨٨: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ :۲۰۸۸ عبد العزیز بن عبد اللہ اویسی نے ہم سے عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسحاق إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ بن عبد الله بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي انس بن مالک سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ جارہا وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ تھا اور آپ پر نجرانی چادر تھی جس کا حاشیہ موٹا تھا۔فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَدَ بِرِدَائِهِ جَبْدَةً اتنے میں ایک گنوار آپ سے آملا اور آپ کی چادر شَدِيدَةً قَالَ أَنَسٌ فَنَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ کو پکڑ کر زور سے کھینچا۔حضرت انس کہتے تھے: عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گردن کے اس وَقَدْ أَثَرَتْ فِيْهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ حصے کو دیکھا جو کندھے سے ملا ہوتا ہے۔(دیکھا شِدَّةِ جَبْدَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي کہ اس کے زور سے کھینچنے سے چادر کے حاشیہ مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي عِنْدَكَ فَالْتَفَتَ نے اس پر نشان ڈال دئے تھے۔(کھینچ کر) وہ إِلَيْهِ فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ۔کہنے لگا: محمد اللہ کے اس مال سے جو تمہارے پاس ہے مجھے بھی کچھ دینے کے لئے حکم دو۔تو آپ نے مڑکر اس کو دیکھا اور ہنس دئے اور پھر اس کو دینے کے لئے فرمایا۔اطرافه: ٣١٤٩، ٥٨٠٩۔