صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 507
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۰۷ ۷۸ - كتاب الأدب نَبْرَحُ أَوْ نَفْتَحَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ جائیں گے جب تک کہ اس کو فتح نہ کر لیں۔نبی صلی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ قَالَ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کل صبح لڑائی شروع کر دو۔فَغَدَوْا فَقَاتَلُوهُمْ قِتَالًا شَدِيدًا وَكَثُرَ چنانچہ وہ صبح کو لڑنے کے لئے گئے اور ان سے فِيهِمْ الْجِرَاحَاتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ نہایت سختی سے لڑائی کی اور انہیں بہت زخم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا لگے۔رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا: ہم انشاء اللہ کل إِنْ شَاءَ اللهُ قَالَ فَسَكَتُوا فَضَحِكَ کوٹ جائیں گے۔حضرت عبد اللہ کہتے تھے: یہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔قَالَ سن کر وہ سب خاموش رہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ) نے یہ سارا واقعہ بیان کیا۔الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِالْخَبَرِ كُلِّهِ۔أطرافه: ٤٣٢٥، ٧٤٨٠- ٦٠٨٧: حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ۲۰۸۷ موسیٰ ( بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ کہ ابراہیم بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ابن شہاب عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے حمید بن عبد الرحمن عَنْهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيِّ صَلَّى الله سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلَكْتُ وَقَعْتُ نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ قَالَ أَعْتِق اور کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا، رمضان میں میں اپنی بیوی سے مباشرت کر بیٹھا۔آپ نے فرمایا: ایک رَقَبَةٌ قَالَ لَيْسَ لِي قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ گردن آزاد کر دو۔کہنے لگا: میرے پاس نہیں۔مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ فَأَطْعِمْ آپ نے فرمایا: دو مہینے لگا تار روزے رکھو۔کہنے سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ لَا أَجِدُ فَأُتِيَ بِعَرَقِ گا: میں نہیں رکھ سکتا۔آپ نے فرمایا: تو پھر ساتھ فِيهِ تَمْرٌ قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْعَرَقُ الْمِكْتَلُ مکینوں کو کھاناکھلاؤ۔وہ کہنے لگا: میں اس کی بھی فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ تَصَدَّقَ بِهَا قَالَ طاقت نہیں پاتا۔اتنے میں آپ کے پاس ایک عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا ٹوکر الا یا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ابراہیم نے کہا: أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا فَضَحِكَ النَّبِيُّ عَرَق ٹوکرے کو کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا: مسئلہ