صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 506
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۰۶ ۷۸ - كتاب الأدب فَقَالَ عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: عِنْدِي لَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ تَبَادَرْنَ یا رسول اللہ ! اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا ر کھے، میرے الْحِجَابَ فَقَالَ أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ ماں باپ آپ پر قربان۔ آپ نے فرمایا: مجھے ان يَا رَسُولَ اللهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِنَّ فَقَالَ عورتوں سے تعجب ہوا، جو (ابھی) میرے پاس يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْتَنِي وَلَمْ تھیں۔ جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی سے پردہ میں چلی گئیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ إِنَّكَ أَفَظُ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ یا رسول اللہ ! آپ زیادہ مستحق ہیں کہ وہ آپ سے اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ جھینپیں۔ پھر وہ ان عورتوں سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے: اری اپنی جانوں کی دشمن ! کیا تم مجھ سے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيهِ يَا ابْنَ جنتی ہوا ینپتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا جھینپتی۔ وہ بولیں: تم بہت اکھڑ اور سخت مزاج ہو، لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجَا إِلَّا رسول اللہ صلی ا ہم ایسے نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سَلَكَ فَبًّا غَيْرَ فَجِّكَ۔ اطرافه: ٣٢٩٤، ٣٦٨٣- وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، جب بھی شیطان تم سے کسی راستے پر چلتے ہوئے ملا تو ضرور ہی اس نے تمہارا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ لیا۔ ٦٠٨٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۲۰۸۲ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن سے ، الْعَبَّاسِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا كَانَ دینار) سے، عمرو نے ابو العباس (سائب) رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو العباس نے حضرت (عبدالله) ابن عمر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ بِالطَّائِفِ قَالَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ علیہ وسلم طائف میں تھے تو آپؐ نے فرمایا: ہم شَاءَ اللهُ فَقَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ انشاء اللہ کل لوٹیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہم تو نہیں