صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 26
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۶ ۷۵ کتاب المرضى شَاءَ اللهُ قَالَ قُلْتَ طَهُورٌ كَلَّا بَلْ یہ بیماری (اس کے ) پاک ہونے کا موجب ہو گی۔هِيَ حُمَّى تَفُورُ أَوْ تَشُورُ عَلَى شَيْخ اس گوار نے کہا: آپ نے کہا پاک ہونے کا موجب كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى ہوگی ہر گز نہیں یہ تو ایسا تپ ہے جو سخت جوش مار رہا ہے یا (کہا) ایک بہت بوڑھے شخص پر شدت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَعَمْ إِذًا۔أطرافه : ٣٦١٦، ٠٥٦٦٢ ٧٤٧٠۔سے حملہ کر رہا ہے کہ اس کو قبریں ہی دکھا کر چھوڑے گا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا پھر ایسا ہی سہی۔بَاب ۱۱: عِيَادَةُ الْمُشْرِكِ مشرکوں کی عیادت کرنا ٥٦٥٧: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۵۶۵۷ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ثابت سے، أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غُلَامًا لِيَهُودَ ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی کہ یہودیوں کا ایک لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ خدمت کرتا تھا اور وہ بیمار ہو گیا تو نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ أَسْلِمُ علیہ وسلم اس کے پاس اس کی عیادت کرنے کے لئے آئے آپ نے فرمایا: اسلام قبول کر لو اور وہ فَأَسْلَمَ۔طرفه : ١٣٥٦- مسلمان ہو گیا۔وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ اور سعید بن مسیب نے اپنے باپ سے نقل کیا۔لَمَّا حُضِرَ أَبُو طَالِبِ جَاءَهُ النَّبِيُّ جب ابو طالب فوت ہونے لگے تو نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔علیہ وسلم ان کے پاس آئے۔عِيَادَةُ الْمُشْرِكِ: مشرکوں کی عیادت کرنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں انسانیت کی ہمدردی اور درد اس قدر بھرا ہوا تھا کہ آپ انسانوں کی جسمانی، اخلاقی اور روحانی بیماریوں کو