صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 503
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۰۳ ۷۸ - كتاب الأدب شریح: ہے کہ لا حلف في الإِسْلَامِ اور دوسرا یہ کہ خالَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ۔ان دونوں میں جو بظاہر تضاد نظر آتا ہے اس کی تطبیق یہ کی گئی ہے کہ جس حلف کی نفی ہے وہ ظلم و تعدی والا حلف ہے اور جس کا اثبات ہے وہ مظلوم کی مدد اور محروم طبقہ کو اُن کا حق دلانا اور انصاف کا قیام اور ہر نیک کام الإخاءِ وَالخُلْفُ : بھائی چارہ اور (دوستی کا) عہد و پیان۔حدیث الباب میں جو یہ بیان کیا گیا میں باہمی تعاون کا بیان ہے۔(فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۲۱۷) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دیکھو میں تمہیں درد دل سے کہتا ہوں کہ وحدت بڑی چیز ہے اور ہرقسم کی کامیابیوں کی جڑ ہے۔صحابہ کرام نے اس کا مزہ چکھا ہے۔ان کی قوم ایک کسمپرس حالت میں تھی۔صرف وحدت کے ذریعے ساری دُنیا میں عظیم الشان اور مظفر و منصور ہو گئی۔جب تک ہر ایک آدمی اپنے اغراض کو چھوڑ کر دوسرے کی ہمدردی میں فنا نہ ہو جاوے یہ بات حاصل نہیں ہوتی۔“ ( حقائق الفرقان جلد اول صفحہ ۵۱۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ”جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کرے۔پردہ پوشی کی جاوے۔جب یہ حالت پیدا ہو تب ایک وجود ہو کر ایک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہیں اور اپنے تئیں حقیقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔ایک شخص کا بیٹا ہو اور اس سے کوئی قصور سر زد ہو تو اس کی پردہ پوشی کی جاتی ہے اور اس کو الگ سمجھایا جاتا ہے۔بھائی کی پردہ پوشی۔کبھی نہیں چاہتا کہ اس کے لئے اشتہار دے۔پھر جب خدا تعالٰی بھائی بناتا ہے تو کیا بھائیوں کے حقوق یہی ہیں ؟ دنیا کے بھائی اخوت کا طریق نہیں چھوڑتے میں مرزا نظام الدین وغیرہ کو دیکھتا ہوں کہ ان کی اباحت کی زندگی ہے۔مگر جب کوئی معاملہ ہو تو تینوں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔فقیری بھی الگ رہ جاتی ہے۔بعض وقت انسان، جانور ، بندر یا کتے سے بھی سیکھ لیتا ہے۔یہ طریق نامبارک ہے کہ اندرونی پھوٹ ہو۔خدا تعالیٰ نے صحابہ کو بھی یہی طریق و نعمت اخوت یاد دلائی ہے۔اگر وہ سونے کے پہاڑ بھی خرچ کرتے تو وہ اخوت اُن کو نہ ملتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کو ملی۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اسی قسم کی اخوت وہ یہاں قائم کرے گا۔“ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲۶۵)