صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 501
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۰۱ ۷۸ - كتاب الأدب ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرمایا: ریشمی کپڑا تو وہی پہنتا ہے جس کے لئے بَعَثَ إِلَيْهِ بِحُلَّةٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى (بھلائی کا کوئی حصہ نہ ہو۔ پھر اس واقعہ پر ایک اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعَثْتَ إِلَيَّ مدت گزری جو گزری۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ فِي مِثْلِهَا مَا قُلْتَ عليه وسلم نے ان کو ایک جوڑا بھیجا تو وہ نبی صلی اللہ قَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا علیہ وسلم کے پاس اسے لے آئے اور کہنے لگے: مَالًا فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي آپ نے مجھے یہ بھیجا ہے حالانکہ آپ اس قسم کے الثَّوْبِ لِهَذَا الْحَدِيثِ۔ جوڑے کے متعلق وہ کچھ کہہ چکے ہیں جو کہہ چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں نے تو تم کو اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس کو بیچ کر کچھ مال حاصل کرو۔ چنانچہ اس حدیث کی وجہ سے حضرت ابن عمرؓ کپڑے میں ریشمی بیل بوٹے بھی نا پسند کرتے تھے۔ أطرافه: ٨٨٦، ٩٤٨، ٢١٠٤، ٢٦١٢، ٢٦١٩، 30٥٤، 5841، 5981۔ تشریح : مَنْ تَجَمَّلَ لِلْوُقُودِ: جس نے نمائندوں کے ملنے کے لئے اپنے تئیں آراستہ کیا۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دوسری قوم کے لیڈروں کا اتنا اکرام تھا کہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ إِذَا جَاءَ كُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ۔ یعنی جب تمہارے پاس کسی قوم کا رئیس اور لیڈر آئے تو اس کی واجبی عزت کیا کرو۔ اور آپؐ نے باوجود ذاتی طور پر انتہائی سادگی کے اپنے لئے ایک خاص لباس رکھا ہوا تھا تا کہ دوسری قوم کے وفدوں کی ملاقات کے وقت پہنا جائے۔ اس میں اپنی خواہش کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ محض دوسری اقوام کا اکرام ملحوظ تھا۔ مرض الموت میں صحابہ سے فرمایا: میری وفات کے بعد وفدوں کے اکرام میں فرق نہ آنے دینا۔“ (مضامین بشیر ، انسانیت کا کامل نمونہ، جلد ۳ صفحه ۷۰۶) بَاب ٦٧ : الْإِخَاءُ وَالْحِلْفُ بھائی چارہ اور ( دوستی کا ) عہد و پیمان وَقَالَ أَبُو جُحَيْفَةَ آخَى النَّبِيُّ اور حضرت ابو جحیفہ (وہب بن عبد اللہ) نے کہا کہ