صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 500
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۰۰ ۷۸ - كتاب الأدب عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ حذاء سے، خالد نے انس بن سیرین سے، انہوں مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ أَهْلَ بَيْتٍ کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک مِنَ الْأَنْصَارِ فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ طَعَامًا خاندان کو ملنے گئے اور آپ نے ان کے ہاں کھانا فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَمَرَ بِمَكَانٍ مِنَ کھایا۔ جب آپ نے جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے الْبَيْتِ فَنُضِحَ لَهُ عَلَى بِسَاطِ فَصَلَّى اس گھر میں ایک جگہ کے متعلق حکم دیا تو آپ کے عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُمْ۔ اطرافه: ۶۷۰، ۱۱۷۹ لیے ایک چٹائی کو پانی ڈال کر صاف کیا گیا۔ پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی اور ان کے لئے دعا کی۔ باب ٦٦: مَنْ تَجَمَّلَ لِلْوُفُودِ جس نے نمائندوں کے ملنے کے لئے اپنے تئیں آراستہ کیا ٦٠٨١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۶۰۸۱: عبد اللہ بن محمد (مسندی ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي کيا کہ عبد الصمد ( بن عبد الوارث ) نے ہمیں بتایا۔ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ قَالَ قَالَ لِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مَا کہا: یحییٰ بن ابی اسحاق نے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے: الْإِسْتَبْرَقُ قُلْتُ مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ مجھے سالم بن عبد اللہ نے پوچھا: استبرق کیا ہوتا وَخَشْنَ مِنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِہ ہے؟ میں نے کہا: وہ دیباج جو موٹا اور گھر درا ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر) يَقُولُ رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةٌ مِنْ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت عمر نے ایک شخص إِسْتَبْرَقٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ کے پاس استبرق کا ایک جوڑا دیکھا تو وہ اس جوڑے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرِ ک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور کہنے هَذِهِ فَالْبَسْهَا لِوَفْدِ النَّاسِ إِذَا قَدِمُوا لگے: یارسول اللہ ! آپ اس کو خرید لیں اور لوگوں عَلَيْكَ فَقَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَّا کے نمائندوں سے ملاقات کرنے کے لئے جب خَلَاقَ لَهُ فَمَضَى فِي ذَلِكَ مَا مَضَى وہ آپ کے پاس آئیں اسے پہنا کریں۔ آپ نے