صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 499
صحیح البخاری جلد ۱۴ ٤٩٩ ۷۸ - كتاب الأدب لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيْ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ کہا: جب سے میں نے اپنے ماں باپ کے متعلق الدِّينَ وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْهِمَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا ہوش سنبھالی ہے یہی جانتی ہوں کہ وہ اسی دین کے فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پابند تھے اور کوئی دن بھی اُن پر نہ گزرتا جس میں طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً فَبَيْنَمَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس دن کے نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ فِي دونوں وقت صبح اور شام نہ آتے ہوں۔ایک دن نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ هَذَا رَسُولُ ٹھیک دوپہر کے وقت ہم حضرت ابو بکر کے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی کہنے والے نے کہا کہ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرہے ہیں۔آپ ایسے جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمْرٌ قَالَ وقت میں آئے کہ آپ اس میں ہمارے پاس نہیں آیا کرتے تھے۔حضرت ابو بکر نے کہا: اس کی وجہ إِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي بِالْخُرُوج۔کوئی خاص بات ہے جو پیش آئی ہے جو اس گھڑی میں ہمارے پاس تشریف لائے ہیں۔آپ نے فرمایا: مجھے ( یہاں سے) نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔أطرافه ،٤٧٦ ، ۲۱۳۸ ، ۲۲۶۳، ۲۲۶۴، ۲۲۹۷، ۳۹۰۵، ٤٠۹۳، ۵۸۰۷ بَاب ٦٥ : الزِّيَارَةُ ملاقات کے لئے جانا وَمَنْ زَارَ قَوْمًا فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ وَزَارَ اور جو لوگوں کو ملنے جائے پھر ان کے ہاں کھانا سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ کھائے۔اور حضرت سلمان (فارسی) نبی صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ عِنْدَهُ۔علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابو دردا سے ملنے گئے اور انہوں نے ان کے ہاں کھانا کھایا۔٦٠٨٠: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ :۲۰۸۰ محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَاءِ عبد الوہاب (ثقفی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے خالد