صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 498
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۹۸ ۷۸ - كتاب الأدب یہ پیچھے رہنے والے بڑے عقلمند تھے اور جو لوگ اپنی فصلیں تباہ کر کے گرمی میں محمد رسول اللہ کے ساتھ گئے وہ بڑے احمق تھے۔اس واقعہ میں ہم کو یہ بتایا گیا ہے کہ واقعہ خواہ کچھ بھی نہ ہو اگر مسلمان کو پتہ لگ جائے کہ منافق دین کے لئے کوئی خطرہ ظاہر کر رہے ہیں تو ساری امت مسلمہ کو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑا ہو جانا چاہیے اور جو کوئی اس میں ستی کرے گا وہ مسلمانوں میں سے نہیں سمجھا جائے گا اور مسلمانوں کو اس سے مقاطعہ کرنا ہو گا۔اب تبوک کے واقعہ کو دیکھو جو قرآنِ کریم میں تفصیل کے ساتھ بیان ہے اور دیکھو کہ جولوگ یہ کہتے ہیں کہ اتنی چھوٹی سی بات کو اتنا کیوں بڑھایا جارہا ہے اور کیا ان کے ساتھ بولنا چالنا احمدیوں کے لئے جائز ہے۔اگر وہ احمد کی کہلا سکتے ہیں اور ان کے ساتھ بولنا چالنا جائز ہے تو پھر قرآن اور محمد رسول اللہ نے تبوک کے موقع پر غلطی کی ہے جس وقت کہ معاملہ چھوٹا ہی نہیں تھا بلکہ تھا ہی نہیں اور پھر وہ لوگ بتائیں کہ حضرت عثمان کے وقت میں شرارت کرنے والے لوگوں کو حقیر قرار دینے والے لوگ کیا بعد میں اسلام کو جوڑ سکے۔اگر وہ اس وقت منافقوں کا مقابلہ کرتے تو نہ ان کا کوئی نقصان تھا نہ اسلام کا کوئی نقصان تھا مگر اس وقت کی غفلت نے اسلام کو بھی تباہ کر دیا اور اتحاد اسلام کو بھی برباد کر دیا۔“ (انوار العلوم، منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات، جلد ۲۵ صفحه ۳۱۸، ۳۱۹) بَاب ٦٤: هَلْ يَزُورُ صَاحِبَهُ كُلَّ يَوْمٍ أَوْ بُكْرَةً وَعَشِيًّا کیا اپنے ساتھی سے ملنے ہر روز (ایک دفعہ) جائے یا صبح کو بھی اور شام کو بھی ٦٠٧٩: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۲۰۷۹ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَّعْمَرٍ۔وَقَالَ اللَّيْثُ ہشام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر سے روایت حَدَّثَنِي عُقَيْلَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ کی۔اور لیث نے کہا: عقیل نے مجھ سے بیان کیا۔فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ ابن شہاب نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ نے