صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 497
صحیح البخاری جلد ۱۴ نیز فرمایا: ۴۹۷ -2A - كتاب الأدب یہ جو مقاطعہ کیا جاتا ہے اور لوگوں کو ملنے سے روکا جاتا ہے، یہ ایسے ہی مقامات پر کیا جاتا ہے جہاں یہ ثابت ہو جائے کہ اس شخص نے جماعت کے خلاف خفیہ کارروائیاں کیں۔پس جو لوگ خفیہ کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کے کاموں میں سازش کا دخل ہوتا ہے ان سے قطع تعلق کا حکم دیا جاتا ہے۔لیکن وہ شخص جس کا فعل انفرادی حیثیت رکھتا ہو اس کے متعلق سلسلہ کبھی ایسا حکم نہیں دیتا۔غرض قطع تعلق کا اعلان انہی لوگوں کے متعلق کیا جاتا ہے جن کے فعل میں سازش پائی جاتی ہو اور یہ ثابت ہو کہ وہ خفیہ طور پر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر جماعت میں فساد پیدا کرنا چاہتے ہیں۔جیسے ۱۹۲۴ء میں بعض لوگوں کے بہائی ہونے پر ہم نے اُن کے ساتھ تعلقات قطع کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ اُن کے متعلق یہ ثابت ہو گیا تھا کہ وہ ظاہر میں ہمارے ہم خیال تھے مگر اندر اندر لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے تھے۔چنانچہ دو تین آدمی انہوں نے اپنے ساتھ ملا بھی لئے تھے۔اسی طرح ہماری اور سزاؤں میں بھی فرق ہے۔مثلاً بعض کو جماعت سے خارج نہیں کیا جاتا صرف اُن سے مقاطعہ کا حکم دیا جاتا ہے۔جیسے درد صاحب جب لندن گئے اور اُس موقع پر بعض لڑکوں نے خلاف شریعت حرکات کیں تو ان سے بولنا منع کر دیا گیا تھا مگر انہیں جماعت سے خارج نہیں کیا گیا اور اس قسم کا مقاطعہ قرآن کریم سے بھی ثابت ہے۔چنانچہ وہ لوگ جن کا وَ عَلَى الثَّلَثَةِ الَّذِينَ خُلِفُوا (التوبۃ: ۱۱۹) میں ذکر کیا گیا ہے اُن سے بولنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا تھا۔غرض نہ بولنے کی سزا اخراج از جماعت سے لازم ملزوم نہیں۔یہ اُسی وقت سزادی جاتی ہے جب اختلاف کی تہہ میں خفیہ سازشیں کام کر رہی ہوں۔“ نیز فرمایا: (خطبات محمود، خطبہ جمعہ فرموده ۹، جولائی ۱۹۳۷، جلد ۱۸ صفحه (۲۵۱) صرف تین آدمی جو سینکڑوں کے لشکر میں سے پیچھے رہ گئے تھے ان کو سخت ملامت کی اور ان میں سے ایک کا بائیکاٹ کر دیا حالانکہ جب رومی لشکر تھا ہی نہیں تو تین چھوڑ کر تین ہزار آدمی بھی نہ جاتا تو اسلام کا کیا نقصان تھا۔قرآن کو تو یہ کہنا چاہیئے تھا کہ